ہمارا ایک خاندانی گھر تھا دادا کا ، دادا کا انتقال ہو چکا ہے ، اور ان کے پانچ بچے تھے ، ایک میرے والد صاحب جو انتقال کر گئے ہیں، اور ہم چار بہن بھائی اور والدہ باقی ہیں، ایک چچا اور ان کے چار بچے، ایک پھوپھو اور ان کے دو بچے، ایک چچا کی بیوہ اور اور تین بچے، ایک چچا اور تھے، جن کا انتقال ہو گیا تھا ،اور ان کی بیوہ نے شادی کر لی تھی ، اب ایک چچا جن کے چار بچے ہیں، اس نے گھر بیچ دیا ہے ، اور پیسے لے لیے ہیں، پَر ہم میں سے کوئی فریق اس گھر کو بیچنا نہیں چاہتا تھا، سوال یہ ہے کہ کیا چچا ہماری اجازت کے بغیر گھر بیچ سکتے ہیں ؟ یا اگر کچھ فریق راضی ہوں، اور کچھ کو علم نہ ہو تو بیچا جا سکتا ہے؟ برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں۔
واضح ہو کہ کسی ایک وارث یا بعض ورثاء کا دوسرے ورثاء کی اجازت کے بغیر ان کا حصہ فروخت کرنا جائز نہیں، لہذا صورتِ مسئولہ میں جن ورثاء کی اجازت کے بغیر مذکور مکان کو فروخت کیا گیا ہے، ان کے حصہ کی بیع ان کی اجازت پر موقوف ہو گی، اگر وہ اجازت دینگے تو بیع نافذ ہو گی ورنہ نہیں۔
كما في الهداية في شرح بداية المبتدي: "الشركة ضربان: شركة أملاك، وشركة عقود. فشركة الأملاك: العين يرثها رجلان أو يشتريانها فلا يجوز لأحدهما أن يتصرف في نصيب الآخر إلا بإذنه، وكل منهما في نصيب صاحبه كالأجنبي" (3/ 5)۔
وفي بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: وإن كان فضوليا فليس بشرط للانعقاد عندنا بل هو من شرائط النفاذ فإن بيع الفضولي عندنا منعقد موقوف على إجازة المالك، فإن أجاز نفذ، وإن رد بطل اھ (5/ 147)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1