السلام علیکم !
میرا اسوال یہ ہے کہ میرے بھائی کا انتقال ہو گیا، اس کی نوکری کی طرف سے سترہ لاکھ ، چوہتر ہزار (17،74000) ملے ہیں، جو کہ اس کے ورثاء میں تقسیم کرنے ہیں، ورثاء میں اس کی ماں، بیوہ، بیٹا ہیں، تو مجھے بتائیں کہ کس کے حصے میں کتنے پیسے آئیں گے ؟
نوٹ : سائل سے فون پر رابطہ کرنے سے معلوم ہوا کہ سائل کے مرحوم بھائی کسی پرائیویٹ بینک میں ملازمت کرتا تھا، مرحوم کے انتقال کے وقت جو سترہ لا کھ ، چوہتر ہزار روپے ملے ہیں، ان میں سے کچھ بقیہ تنخواہیں، اور کچھ انشورنس کی مد میں، اور کچھ ہر ماہ تنخواہ سے کٹوتی ہوتی تھی، وہ ہیں۔
مرحوم کی تنخواہ کی بقیہ رقم اور انشورنس میں جمع ہونے والی پریمیم کی رقم مرحوم کا ترکہ شمار ہو گا، جو کہ دیگر ترکہ کی طرح ان کے ورثاء میں حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم ہو گا، البتہ انشورنس کی مد میں ملنے والی " کلیم " کی اضافی رقم وصول کرنے کے بعد کسی مستحق شخص کو بغیر نیتِ ثواب دیدی جائے، جبکہ تنخواہ میں ہر ماہ کٹوتی کے بارے میں کمپنیوں اور اداروں کے قوانین مختلف ہوتے ہیں، بعض کمپنیوں کے مطابق ملازم اپنی حیات میں اس کا مستحق بن جاتا ہے، چنانچہ اگر مرحوم اپنی زندگی میں اس رقم کا مستحق تھا، اور اپنی زندگی میں اسے مذکور رقم وصول کرنے کا اختیار حاصل تھا، تو ایسی صورت میں یہ رقم بھی ترکہ شمار ہو گی، جو کہ مرحوم کے تمام ورثاء میں حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم ہوگی، البتہ اگر ملازم حقدار نہ ہو، اور اپنی زندگی میں اسے مذکور رقم وصول کرنے کا حق حاصل نہ تھا ،تو پھر یہ رقم ادارے کی طرف سے تبرع اور احسان ہے، اور اس کیلئے ادارہ ورثاء میں سے جس کو نامزد کرےگا ،یہ رقم اس کو ملے گی ، دیگر ورثاء کا اس میں حصہ نہیں ہو گا۔
اس کےبعد واضح ہو کہ سائل کے مرحوم بھائی کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق اس کے موجود ہ ورثاء میں اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے جو کچھ منقولہ اور غیر منقولہ مال و جائیداد سونا، چاندی، زیورات، نقدر رقم اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا گھر یلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے، اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط مصارف ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کچھ قرض واجب الادا ہو تو وہ بھی ادا کریں، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ مال کے ایک تہائی (1/3) کی حد تک اس پر عمل کریں، اس کے بعد جو کچھ بچ جائے ،اس کے کل (24) حصے بنائے جائیں، جن میں سے مرحوم کی والدہ کو چار (4) حصے ، بیوہ کو تین (3) حصے اور بیٹے کو سترہ (17) حصے دیے جائیں -
وفي الدر المختار: يبدأ من تركة الميت الخالية عن تعلق حق الغير بعينها كالرهن والعبد الجاني) اھ (۶/ ۷۵۹)۔
وفي رد المحتار: (قوله الخالية إلخ) صفة كاشفة لأن تركۃ الميت من الأموال صافيا عن تعلق حق الغير بعين من الأموال كما في شروح السراجية . اھ (6 /759)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1