السلام علیکم ! میرے دماغ کے اندر عجیب و غریب قسم کے کفریہ خیالات آتے رہتے ہیں، اتنے برے کہ میں ان کو بیان نہیں کر سکتا ، میں کوئی اسلامی تقریر سنوں یا اسلامی میسج پڑھوں، تو اس بارے میں بھی اس قسم کے خیالات آنا شروع ہو جاتے ہیں، حتی کہ یہ خیالات نماز کے اندر بھی آتے رہتے ہیں، میں بہت پریشان ہوں اور ان خیالات کی وجہ سے میں کوئی اسلامی تحریر نہیں پڑھ سکتا اور کوئی اسلامی تقریر بھی نہیں سن سکتا، یہ خیالات رمضان المبارک کے مہینے میں بھی آ رہے ہیں ،میں بہت کوشش کرتا ہوں مگر یہ خیالات ختم نہیں ہوتے۔برائے مہربانی ان کے ختم کرنے کا کوئی طریقہ تجویز فرمادیں اور کیا ان خیالات کے آنے کے بعد میرا ایمان قائم ہے اور میں مسلمان ہوں ؟
وساوس کے آنے سے ایمان پر کوئی فرق نہیں پڑتا ، بشر طیکہ ان وساوس کو سائل برا خیال کرتا ہو، بلکہ ایسی صورت میں وساوس عین ایمان کی علامت ہوں گے ، اس لئے سائل کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔
کما فی صحيح البخاري : عن أبي هريرة رضي الله عنه، قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم: «إن الله تجاوز لي عن أمتي ما وسوست به صدورها، ما لم تعمل أو تكلم»(3/ 145)۔
و فی مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح : (ما لم تعمل به) أي: ما دام لم يتعلق به العمل إن كان فعليا (أو تكلم) : به أي: ما لم تتكلم به إن كان قوليا كذا في الأزهار، قال صاحب الروضة في شرح صحيح البخاري: المذهب الصحيح المختار الذي عليه الجمهور أن أفعال القلوب إذا استقرت يؤاخذ بها فقوله - صلى الله عليه وسلم-: «فإن الله تجاوز عن أمتي ما وسوست به صدورها» ) محمول على ما إذا لم تستقر، وذلك معفو بلا شك؛ لأنه لا يمكن الانفكاك عنه بخلاف الاستقرار اھ (1/ 135) ۔
بدحواسی میں خدا تعالیٰ کو بُرا بَھلا کہنے اور قرآن کریم کو شہید کرنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1اللہ کی قسم ’’میں اسلام سے پیچھے ہٹ گیا، میں نہیں مانتا اب کسی چیز کو‘‘ کہنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 0اللہ تعالیٰ کی ذاتِ باری کے حق میں نازیبا الفاظ کہنے والے سے متعلق مختلف سوالات
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1