السلام علیکم !اگر کسی کو اس طرح کی قسم دیدی جائے کہ تم قسم کھاؤ کہ تم کبھی بھی جھوٹ نہیں بولو گے، اور غلط کام نہیں کروگے، اور کوئی بات نہیں چھپاؤ گے، اگر ایسا کرو گے تو تمہارا ایمان چلا جائے گا اور وہ شخص یہ قسم کھا لیتا ہے اور اس کے بعد جھوٹ بولتا ہے،تو کیا واقعی اس کے دل سے ایمان نکل جائے گا اور اگر نکل جائے گا ،تو اس صورت میں کیا کرنا چاہیے صرف زبان سے کلمہ پڑھ لے، تو کیا ایمان میں داخل ہو جائے گا؟
سوال میں ذکر کردہ الفاظ " اگر فلاں کام کروں تو ایمان چلا جائے " اگرچہ سخت قسم کے الفاظ ہیں، مگر صرف اتنا کہنے سے اگر چہ وہ کام کرے تب بھی کافر نہیں ہوتا الا یہ کہ وہ کہنے والا یہ اعتقاد رکھتا ہو کہ یہ کام کرنے سے میں واقعی کافر ہو جاؤں گا، تو کفر پر راضی ہونے کی وجہ سے کا فر ہو جائے گا۔
كما في الدر: وان فعل كذا فهو كافر ، والاصح ان الحالف لم يكفر علقه بماض أو ات ان كان عنده في اعتقاده أنه يمين وان كان عنده انه يكفر في الحلف يكفر فيهما اھ(3/ 55) ۔
بدحواسی میں خدا تعالیٰ کو بُرا بَھلا کہنے اور قرآن کریم کو شہید کرنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1اللہ کی قسم ’’میں اسلام سے پیچھے ہٹ گیا، میں نہیں مانتا اب کسی چیز کو‘‘ کہنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 0اللہ تعالیٰ کی ذاتِ باری کے حق میں نازیبا الفاظ کہنے والے سے متعلق مختلف سوالات
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1