السلام علیکم!
میرا سوال یہ ہے کہ جائیداد کی تقسیم کرتے وقت اگر کسی بھائی نے ایک کمرہ اپنے لئے بنایا ہے، تو ویلیو میں سے اس کو اضافی ادائیگی ہو گی یا نہیں ؟ واضح رہے کہ وہ بھائی اسی گھر میں رہے گا باقی بھائیوں کے ساتھ ، ویلیو بس ایک بھائی کا حصہ دینے کے لئے لگائی جارہی ہے۔
مذکور بھائی نے اگر یہ کمرہ والد مرحوم کی زندگی میں تعمیر کیا ہو، اور تعمیر کرتے وقت اس پر آنے والے اخراجات کے قرض یا واپس لینے کی صراحت بھی نہ کی ہو، تو ایسی صورت میں اب یعنی تقسیم کے وقت وہ اس مد میں رقم وصول کرنے کا حقدار نہ ہو گا، تاہم اگر تمام ورثاء اپنی رضاء و خوشی سے اسے اس کے عوض اضافی کچھ رقم دینا چاہیں، تو انہیں اس کا اختیار ہے ، لیکن اگر تعمیر کرتے وقت بھائی نے اس رقم کے قرض یا واپس لینے کی صراحت کی ہو، تو ایسی صورت میں وہ خرچ کردہ رقم وصول کرنے کا شرعاً حقدار ہے۔
كما في درر الحكام في شرح مجلة الأحكام: [ (المادة 96) لا يجوز لأحد أن يتصرف في ملك الغير بلا إذنه] اھ (1/ 96)۔
و في الدر المختار: لا يجوز التصرف في مال غيره بلا إذنه ولا ولايته اھ (6/ 200)۔
و في النتف في الفتاوى للسغدي: فاما هبة الصغير للكبير فهي غير جائزة ولا هي موقوفة على الاجازة اھ (1/ 519)۔
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (وشرائط صحتها في الواهب العقل والبلوغ والملك) فلا تصح هبة صغير اھ (5/ 687)۔
و في مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر : وشرائط صحتها في الواهب العقل والبلوغ والملك اھ(2/ 353)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1