وضو میں کپڑے اور چمڑے دونوں اقسام کے موزوں کے اوپر مسح کرلینے کے حوالے سے شرعی احکام کی وضاحت فرمائیں۔
مروّجہ جرابوں پر مسح کرنا تو شرعاً جائز نہیں، اس سے احتراز لازم ہے، البتہ اونی، سوتی موزے اور جرابیں اگر اس قدر موٹے ہوں کہ انہیں پہن کر جوتوں کے بغیر تین میل پیدل چلیں تو بھی نہ پھٹیں اور وہ پنڈلی پر بغیر کسی چیز کے باندھے قائم رہ سکیں اور اس سے پانی نہ چھنتا ہو تو چمڑے کے موزوں کے حکم میں ہوں گے اور ان پر مسح کرنا جائز ہوگا۔
كما فی الدراو(جوربیه) ولو من غزل او شعر (الثخنین) بحیث یمشی فرسخا ویثبت علی الساق بنفسه ولایری ما تحته ولا ینشف الا ان ینفذ الی الخف قدر الغرض. اهـ(ج:۱، ص:۲۶۹)
وفی الشامیة: تحت (قوله ولو من غزل او شعر) خرج عنه ما كان من كرباس: وهو الثوب من القطن الابیض ویلحق بالكرباس كل ما كان من نوع الخیط كالكتاب والابریسم ونحوهما وتوقف ح فی وجه عدم جواز المسح علیه اذا وجد فیه الشروط الاربعة التی ذكرها الشارح وهكذا فی التاتارخانیة. اهـ (ج:۱، ص:۲۶۷)
وفی بدائع الصنائع: (أما) الاوّل فالمسح علی الخفین جائز عند عامة الفقهاء وعامة الصحابة رضی الله عنهم .... وأما المسح علی الجوربین فان كان مجلدین او منعلین یجزیه بلا خلاف عند اصحابنا وان لم یكونا مجلدین ولامنعلین فان كان رقیقین یشفان الماء لا یجوز المسح علیهما بالاجماع وان كانا ثخینین لا یجوز عند ابی حنفیة وعن ابی یوسف ومحمَّد یجوز وروی عن ابی حنیفة انه رجع الی قولهما فی آخر عمره. اهـ (ج:۱، ص:۱۰)
وفی الهدایة: ولایجوز المسح علی الجوربین عند ابی حنفیة الا ان یكونا مجلدین او منعلین وقالا یجوز اذا كانا ثخینین لایشفان لما روی ان النبی علیه السلام مسح علی جوربیه ولانه یمكنه المشی فیه اذا كانا ثخینین وهو ان یتمسك علی الساق من غیر ان یربط بشیٔ فاشبه الخف .... وعنه انه رجع الی قولهما وعلیه الفتوی. اهـ (ج:۱، ص:۶۵)