وضو

پرمننٹ وگ پر وضو و غسل میں مسح اور پانی بہانے کا کیا حکم ہے؟

فتوی نمبر :
43439
| تاریخ :
0000-00-00
طہارت و نجاست / طہارت / وضو

پرمننٹ وگ پر وضو و غسل میں مسح اور پانی بہانے کا کیا حکم ہے؟

پرمننٹ وگ یا پھر بالوں کے پیوند لگانے کی صورت میں غسل اور وضو کا کیا حکم ہوگا؟ مستقل وگ سر سے جدا نہیں ہوتی اور پانی اس کے نیچے نہیں جاتا ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اول تو‬‎ ‎‫یہ سمجھا چاہیئے کہ انسانی بال اور خنزیر کے بال لگوانا نا جائز ہے، البتہ انسان اور خنزیر کے علاوہ کسی اور جاندار یا‬‎‬‬‬‬ مصنوعی بال لگوانا جائز ہے، بشر طیکہ‬‎ ‎‫کسی کو دھو کہ دینا مقصود نہ ہو ،غسل اور طہارت میں یہ تفصیل ہے کہ اگر وہ بال جسم کے ساتھ مستقل پیوست ہوجائیں اور بآسانی جسم سے الگ‬‎‬‬‬‬ نہ ہو سکتے ہوں، تو وضو کے دوران ان پر مسح کرنا جائز ہے ،اس طرح غسل میں بھی ان پر پانی بہانا کافی ہے۔‬‎‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬

مأخَذُ الفَتوی

کما فی تكملة فتح الملهم : الوصل بشعر الآدمى حرام و كذالك‬‎‬‬ الوصل بشعر نجس من غير الآدمى و أما الشعر الطاهر من غير الآدمى‬‎‬‬ فيجوز الوصل به اهـ (4/ 191)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 43439کی تصدیق کریں
0     1063
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات