محترم مفتیان کرام صاحبان وزیر اعظم پاکستان نے ایک سبسیڈی پروگرام کے تحت لوگوں کو اپنا گھر بنانے کے لیے تیار گھر خریدنے کے لیے یا زمین خرید کر اس پر گھر تعمیر کرنے کے لیے قرضہ سکیم کا اعلان کیا ہے، اب جو قرضہ حکومت سے بینک کے ذریعے حاصل کیا جاتا ہے، وہ قرضہ ادا کرنے کے لیے 20 سال کا وقت متعین ہے، ماہانہ قسطوں کے صورت میں پہلے پانچ سال 5 فیصد مارک اپ ادا کرنا پڑیگا، دوسرے 5 سال 7 فیصد اور تیسرے پانچ سال اور چوتھے پانچ سال مارک اپ کا ریٹ مختلف ہوسکتا ہے، کیا اس طرح کا قرضہ لینا جائز ہے؟
ہاؤسنگ اسکیم کے تحت لوگوں کو جو قرضہ فراہم کیا جاتا ہے، وہ چونکہ سودی قرضہ ہے، اور سودی معاملہ کوئی بھی ہو قرآن وسنت کی واضح نصوص کی رو سے شرعا ناجائز اور حرام ہے، اس لیے اس طرح کی اسکیموں کے ذریعے سودی قرض لے کر اپنی ضرورت پوری کرنے کے بجائے کسی فرد یا ادارے سے بلاسود قرض لے لیا جائے، یا مستند مفتیان کرام کی زیر نگرانی اپنے معاملات سراجام ادینے والے کسی اسلام بینک سے جائز متبادل طریقے کے ذریعے اپنی مذکور ضرورت پوری کی جائے۔
قال اللہ تعالی: الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبَا لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسِّ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا إِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبَا وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا (سورۃ البقرۃ ایة 275)۔
و فی مشکاۃ المصابیح: عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَعَنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكَلَ الرِّبَا وَمُوَكِلَهُ وَكَاتِبَهُ وَشَاهِدَيْهِ وَقَالَ: «هُمْ سَوَاءٌ» . رَوَاهُ مُسلم (2/855 رقم الحدیث 2807)۔
و فی الدرالمختار: وفي الأشباه كل قرض جر نفعا حرام الخ (5/166)۔
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0