چمک والی گلیٹر آئشیڈلگائی ، اس کے بعد وضو کیا اور نماز پڑھ لی ، بعد میں دیکھا چمک لگی رہ گئی ہے ، کیا نماز ہوگئی ؟
مذکور گلیٹر آئیشیڈ کی اگر پلکوں پر ایسی تہہ جمتی ہو کہ جس کی وجہ سے پانی بالوں تک نہ پہنچتا ہو تو اس کو زائل کیے بغیر وضو نہیں ہوگا اور اس کے بعد جو نماز پڑھی گئی وہ بھی درست نہ ہوگی ، البتہ اگر اس کی ایسی تہہ نہ جمتی ہو جس کے لگانے کے بعد بھی بالوں تک پانی پہنچنے میں رکاوٹ ہو تو اس کو لگانے کے بعد بھی وضو اور نماز دونوں درست ہوجائیں گے۔
کما فی الدر المختار : (و لا يمنع) الطهارة (و نيم) أي خرء ذباب و برغوث لم يصل الماء تحته (و حناء) و لو جرمه به يفتى (و درن و وسخ) عطف تفسير و كذا دهن و دسومة (و تراب) و طين و لو (في ظفر مطلقا) أي قرويا أو مدنيا في الأصح بخلاف نحو عجين (و) لا يمنع (ما على ظفر صباغ و) لا (طعام بين أسنانه) أو في سنه المجوف به يفتى و قيل إن صلبا منع و هو الأصح الخ
و فی رد المحتار : تحت(قوله : بخلاف نحو عجين) أي كعلك و شمع و قشر سمك و خبز ممضوغ متلبد جوهرة ، لكن في النهر : و لو في أظفاره طين أو عجين فالفتوى على أنه مغتفر قرويا كان أو مدنيا اهـ نعم ذكر الخلاف في شرح المنية في العجين واستظهر المنع ؛ لأن فيه لزوجة و صلابة تمنع نفوذ الماء اھ (1/154)۔