السلام علیکم !
مجھے میری بہن نے اپنی ذاتی رقم ۴۰۰۰۰۰( 4 لاکھ) روپے دیے تھے ( اپنی شادی سے پہلے تقریبا ۲۲، ۲۳ سال پہلے ) اس نے کبھی مجھ سے رقم کی واپسی کا تقاضا نہیں کیا، نہ شادی سے پہلے اور نہ بعد میں اور نہ ہی اپنے خاوند سے اور نہ ہی دوسرے بہن بھائیوں سے ذکر کیا ،اور نہ ہی مجھے یاد ہے کہ میں نے اسے کتنے پیسے واپس کیے ہیں ، اس نے کبھی بھی مجھ سے رقم واپس نہیں مانگی، اور نہ ہی میں نے کبھی ذکر کیا، بظاہر یہی لگتا تھا کہ اس نے وہ رقم مجھے ہی دے دی ہے، گزشتہ دنوں وہ اللہ کو پیاری ہوگی ،میری اس بہن کی کوئی اولاد نہیں ہے ،اور اس کے خاوند نے دوسری شادی کر لی ہے ، اب مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ میں کیا کروں ؟ اس معاملے میں شریعت کیا کہتی ہے ؟ مہر بانی فرما کر مجھے بتلائیں , میرا تعلق فقہ حنفی سے ہے۔
سائل کی مرحومہ بہن نے یہ رقم اگر سائل کو بطورِ قرض دی تھی ، اگرچہ بعد میں اس نے سائل سے مطالبہ نہ کیا ہو، تب بھی سائل کے ذمہ اپنی بہن کو اس رقم کا واپس کرنا ضروری تھا، اب چونکہ سائل کی بہن کا انتقال ہو چکا ہے، اس لئے اب یہ رقم سائل کی بہن کے ترکہ میں شامل ہو کر تمام ورثاء میں حسبِ حصص شرعیہ تقسیم ہو گی، جس کا طریقہ کار ورثاء کی تفصیل ذکر کر کے معلوم کیا جا سکتا ہے۔
كما قال اللہ تعالیٰ: ان الذين ياكلون اموال اليتمى ظلماً انما ياكلون في بطونهم ناراً (النساء (10)۔
وفي مشكوة المصابیح: الا لا يحل مال امرا مسلم إلابطيب نفسه.
وفي تكملة رد المحتار: الارث جبرى لا يسقط بالاسقاط اھ (5/۵۰) ۔
وفي الدر المختا : شرح وهبانية (يبدأ من تركة الميت الخالية عن تعلق الغير بعينها كالرهن والعبد والجاني ) والمأذون المديون والمبيع المحبوس بالثمن والدار المستأجرة اھ (6/ 759) -
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0