السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ! براہِ کرم مسئلہ مرقومہ کا جواب دیجئے ، وہ پلاسٹر کے مانند (فارسی میں زفت اور کاپسیکوم کہتے ہیں ) موضع درد میں لگایا جاتا ہے اور چوبیس گھنٹے یا اس سے زیادہ رہنا ضروری ہے، وضو اور غسل کے وقت کیا کرے ؟ آیا دھونا ضروری ہے ؟ یا مسح علی الجبیرہ کے حکم میں داخل ہے ؟
سوال میں مذکور پلاستر نما چیز جو موضع درد میں لگایا جاتا ہے ، اس کا چوبیس گھنٹے رہنا ضروری ہو اور اس کو کھولنے سے اس پلاستر کا اثر ختم ہونے یا مزید تکلیف کا اندیشہ ہو ،تو وضو اور غسل کے وقت اس کا حکم مسح علی الجبیرہ کا ہوگا۔
كما فی الدر المختار : (و يمسح) نحو (مفتصد و جريح على كل عصابة) مع فرجتها في الأصح (إن ضره) الماء (أو حلها) و منه أن لا يمكنه ربطها بنفسه و لا يجد من يربطها اھ (1/280)۔
و فی الفتاوی الھندیة : و إنما يمسح إذا لم يقدر على غسل ما تحتها و مسحه بأن تضرر بإصابة الماء أو حلها ، هكذا في شرح الوقاية و من ضرر الحل أن يكون في مكان لا يقدر على ربطها بنفسه و لا يجد من يربطها ، كذا في فتح القدير اھ(1/35)۔