السلام علیکم ! مفتی صاحب ! براہِ مہربانی اس مسئلہ پر رہنمائی فرما دیجئے! اگر کوئی فوجی جوان دورانِ ڈیوٹی ایسی حالت اور ماحول میں ہو کہ اس کے لئے وضو بناتے وقت پاؤں دھونے کے لئے بوٹ نکالنے کا ٹائم نہ ہو ، کیونکہ دشمن کا خوف ہے یا کانوائی(فوج کے کچھ جوان جب ایک ساتھ کہیں جاتے ہیں) سے رہ جانے کا خدشہ ہے ، تو کیا اس صورت میں وضو بناتے وقت بوٹ پر مسح کرنا جائز ہے؟ اور بوٹوں کے ساتھ نماز پڑھ سکتا ہے؟ آج کل فوجی بوٹوں کی بناوٹ بھی کچھ اس طریقے سے ڈیزائن ہے کہ وہ بالکل بند ہے؟ اور پاؤں پر ہوا بھی تقریباً نہیں لگتی۔
آج کل مروجہ فوجی بوٹوں میں چونکہ جوازِ مسح کی تمام شرائط عموماً پائی جاتی ہیں ، اس لئے اگر باقاعدہ وضو کرکے بوٹ پہن لیے ہوں ، تو عام دنوں میں ایک دن اور ایک رات ، جبکہ حالتِ سفر مین تین دن اور تین رات اسے اتارے بغیر اس پر مسح کرنا شرعاً جائز اور درست ہے ، لیکن ان بوٹوں پر مسح کرکے اس کے ساتھ نماز ادا کرنے کے لئے دیگر شرائط کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ اس پر کسی قسم کی ناپاکی اور نجاست لگی ہوئی نہ ہو یا نماز سے پہلے اس کو دھو کر پاک کر لیا جائے ، ورنہ نجاست کو پاک کیے بغیر اس کے ساتھ نماز شرعاً ادا نہ ہوگی اور عام حالات میں چونکہ اس میں ایک گونہ بے ادبی کا شبہ ہے ، اس لئے بوٹوں کے ساتھ مسجد میں داخل ہونے سے احتراز کیا جائے ۔
کما فی سنن ابی داؤد : عن أبی سعید الخدزی ، قال : بینما رسول اللہ ﷺ یصلی بأصحابه اذ خلع نعلیه فوضعھما عن یسارہ ، فلما رأی ذلک القوم ألقوا نعالھم ، فلما قضی رسول اللہ ﷺ قال: ما حملکم علیٰ القاء نعالکم ، قالوا : رأیناک ألقیت نعلیک فألقینا نعالنا ، فقال رسول اللہ ﷺ : ان جبریل علیه السلام أتانی فأخبرنی أن فیھما قذراً أو قال :أذی و قال : اذا جاء أحدکم الیٰ المسجد فلینظر : فان رأی فی نعلیه قذراً أو أذی فلیمسحه ولیصل فیھما اھ (1/175)۔
و فیه أیضاً : عن یعلی بن شداد بن أوس ، عن أبیه، قال:قال رسول اللہ ﷺ خالفوا الیھود فانھم لایصلون فی نعالھم ولا خفافھم اھ (1/176)۔
و فی رد المحتار : تحت (قوله شرط مسحه) أي مسح الخف المفهوم من الخفين؛ وأل فيه للجنس الصادق بالواحد والاثنين، ولم يقل مسحهما؛ لأنه قد يكون واحدا لذي رجل واحدة (قوله ثلاثة أمور إلخ) زاد الشرنبلالي: لبسهما على طهارة، وخلو كل منهما عن الخرق المانع، واستمساكهما على الرجلين من غير شد، ومنعهما وصول الماء إلى الرجل، وأن يبقى من القدم قدر ثلاثة أصابع اهـ (1/261)۔
و فی المحیط البرھانی : و أما المسح علی الجوارب فلایخلو : اما ان کان الجوارب رقیقاً غیر منعل و فی ھذا الوجه لایجوز المسح بلاخلاف و أما ان کان ثخیناً منعلاً ففی ھذا الوجه یجوز المسح بلاخلاف ، لأنه یمکن قطع السفر و تتابع المشی علیه ، فکان بمعنی الخف و المراد من الثخین أن یستمسک علیٰ الساق من غیر أن یشد بشیء و لا یسقط ، فأما اذا کان لایستمسک و یسترخی ، فھذا لیس بثخین ولایجوز المسح علیه اھ (1/343)۔