کیا ونڈوز اور پے پال اکاؤنٹس اور ان جیسے دیگر سافٹ ویئرز فروخت کرنا جائز ہے ؟ ان سافٹ وئیر کے مالکان غیر مسلم ہیں اور انہوں نے ان کی فروخت پر پابندی عائد کردی ہے کہ کوئی بھی ان سافٹ ویئرز کو لائنسز فیس ادا کیے بغیر استعمال نہیں کرسکتا، جبکہ پوری دنیا میں ہم لوگ ان سافٹ ویئرز کی کریک ورژن استعمال کرتے ہیں، کیا میرے لیے یہ سافٹ ویئرز فروخت کرنا شرعاً جائز ہے؟
واضح ہو کہ کوئی ایسا سافٹ ویئر جس کے قانونی طور پر کاپی رائٹ کے حقوق محفوظ ہوں اور اس کے ساتھ ساتھ اس سافٹ وئیر کو کمپنی کی طرف سے مقرّر کردہ قیمت ادا کیے بغیر استعمال کرنے کی اجازت نہ ہو، تو اس کو کریک یا ہیک کر کے استعمال کرنا اگر چہ دھوکہ دہی پر مبنی عمل ہے، جس سے اجتناب کرنا چاہیئے تاہم اگر کمپنی کی طرف سے اس طرح استعمال کی صراحتاً ممانعت اور اس کو قانوناً جرم قرار نہ دیا گیا ہو، جس کی وجہ سے کوئی شخص یہ عمل کر کے اس سافٹ ویئر کو کسی جائز کام میں استعمال کر رہا ہو تو اس کے اس عمل کو حرام نہیں کہا جائےگا۔
کما فی الھندیہ: فكل عين قائمة يغلب على ظنه أنهم أخذوها من الغير بالظلم وباعوها في السوق فإنه لا ينبغي أن يشتري ذلك وإن تداولتها الأيدي الخ (5/364)۔
و فی مجلۃ الاحکام العدلیۃ: (كل يتصرف في ملكه كيفما شاء. لكن إذا تعلق حق الغير به فيمنع المالك من تصرفه على وجه الاستقلال.(3ج/ص201 رقم المادۃ 1192)۔