السلام علیکم ورحمۃاللہ، میرا یہ سوال تھا کہ میرے بھائی نے ایک آن لائن کام شروع کیا تھا Leads Generations کا، اس میں اس نے اپنے کالانٹس کو سروس یہ دینی ہوتی ہے کہ آپ اپنے کام کی مشہوری ہم سے کروائیں، ہم دوسروں کو بتاتے ہیں کہ آپ یہ کام کرتے ہیں، اب میرے بھائی نے ایک یہ کام شروع کیا اور میسج بنایا اور میسج سینڈ کیا اور اس میسج سینڈ کرنے میں اس نے کسی اور کا سافٹویئر استعمال کیا، پھر اسکو کالانٹس ملے اور کام کیا، پر اس نے وہ سافٹویئر چھوڑ دیا اور سافٹویئر کا جو کام تھا ،وہ ہاتھ سے کیا، پھر اب تک وہ کام کر رہا ہے، اس سے پوچھا تو اس نے کہا کہ سافٹویئر والے سے کچھ بھی نہیں بنایا،مطلب وہ جب چھوڑا تھا تو اس سے آگے کچھ بھی نہیں بنایا تھا، اب وہ اور میری دوسری بہن مل کر کام کرتے ہیں، گھر میں پیسے بھی آتے ہیں، انکا کہنا ہے کہ وہ سافٹویئر جو کسی کا تھا وہ چھوڑ دیا تھا اور اسکے بعد ہاتھ سے کام کرتے تھے ،پھر ہی بعد میں اپنا سافٹویئر خریدا تھا، اور اب وہ کمائی کرتا ہے اور ہمارے گھر میں آتی ہے،میرا یہ سوال ہے اگر ہم اس کسی کی چیز کے جتنے پیسے اس آدمی کو دے دے اسکے بغیر بتائے ہم اسکے اکاؤنٹ میں جمع کرا دیں تو ہم پر کوئی گناہ نہیں ہوگا؟ یا پھر اس سے جو تمام چیزیں بنائی ہوئی ہیں انکی قیمت بھی ادا کریں تو گناہ ہوگا؟ میں اسکے پیسے استعمال نہیں کرتی لیکن گھر میں جو بنتا ہےوہ تو اب کھانا ہی ہوتا ہے، مجھے انہوں نے بہت دفعہ قسمیں کھا کر بھی بتایا ہے کہ نہیں اب جو کالانٹس پہلے تھے پر کام ہم نے اب کسی کی کوئی چیز سے نہیں کر رہے، مجھے بھی سب کہتے ہیں کہ کام کرواو انکے ساتھ ، پر مجھے ڈر لگتا ہے کہ غلط کام میں حصہ نہ ڈالوں، تو اب کیا کریں کچھ سمجھ نہیں آ رہا، ہو سکتا ہے کہ کچھ نہ کچھ حصہ آگے بھی استعمال ہوا ہو، پلیز اسکا جواب آسان الفاظ میں بیان کریے گا، جزاک اللہ
واضح ہو کہ کسی شخص کی ملکیتی چیز کو اس کی اجازت کے بغیر استعمال کرنا شرعاً ناجائزاورغصب کے زمرے میں آتاہےاور اس سے حاصل ہونے والی آمدن حرام ہوتی ہے۔
لہٰذاصورت مسئولہ میں سائلہ کے بھائی نے ابتدا میں جس مدت تک بغیر اجازت سافٹ ویئر استعمال کیا، اس مدت کی مناسب اجرت مالک کو ادا کرنا لازم ہے۔ یہ ادائیگی مالک کو بتا کر کی جائے یا فتنہ و شر کے اندیشہ کے پیش نظر بغیر بتائے اس کے اکاؤنٹ میں جمع کرادی جائے، دونوں صورتیں شرعاً درست ہیں اور اس کے ذریعے سابقہ تقصیر کا ازالہ ہو جائے گا۔
تاہم جب سے سائلہ کابھائی مذکورہ سافٹ ویئر ترک کر کے اپنا خود کا سافٹ ویئر استعمال کرنے لگاہو یا ہاتھ سے کام کرتاہو، تو س کے بعد کی تمام آمدنی بالکل حلال ہے، اس میں کوئی شبہ یا ممانعت نہیں۔چنانچہ گھر میں آنے والی موجودہ کمائی کااستعمال کرنا اور اس سے گھر کا کھانا یا دیگرضروریات پوری کرنا بھی شرعاً جائزاوردرست ہے۔
کمافی مرقاۃ المفاتیح: وعن أبي حرة الرقاشي، عن عمهؓ قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم "ألا لا تظلموا، ألا لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه" رواه البيهقي في "شعب الإيمان" والدارقطني في "المجتبى"
قال الشارح العلام: تحت ھذالحدیث (لا يحل مال امرئ) أي: مسلم أو ذمي (إلا بطيب نفس) أي: بأمر أو رضا منه، رواه البيهقي في "شعب الإيمان"، والدارقطني في "المجتبى" (کتاب البیوع، باب الغصب والعارية، ج 5، ص 1974، المرقم: 2946، ط: دار الفکر، بیروت)-
وفی صحیح البخاریؒ: عن النعمان بن بشيرؓ قال: قال النبی ﷺ: "الحلال بين والحرام بين، وبينهما أمور مشتبهة، فمن ترك ما شبه عليه من الإثم كان لما استبان أترك، ومن اجترأ على ما يشك فيه من الإثم أوشك أن يواقع ما استبان، والمعاصی حمى الله، من يرتع حول الحمى يوشك أن يواقعه" اھ الباب الثانی: الحلال بين والحرام بين وبينهما مشبهات، المرقم: 2051،
وقال حسّان بن أبی سنانؒ: ما رأيت شيئا أهون من الورع، دع ما يريبك إلى ما لا يريبك، الخ (الباب الثالث: تفسير المشبهات، ج 2، ص 1000، المرقم: 2052، ط: البشری)-