جناب میرا مسئلہ یہ ہے کہ میرے والدین نے اپنے رہنے کیلئے گھر خریدا ہے جس کی قیمت بتیس لاکھ ہے، جناب جس سے مکان خریدا ہے اسے تیس لاکھ ادا کررہے ہیں، بقایا دو لاکھ ۲۰ جولائی ۲۰۱۳ء کو دینے ہیں، جناب میرے پاس کوئی ذریعہ نہیں ہے، اور اس کے پیسے ادا کرنا ہے مسئلہ یہ ہے کہ کیا میں زکوٰۃ کی مد میں دو لاکھ کسی سے لے سکتا ہوں؟ کیا یہ رقم میرے لئے جائز ہوگی؟ اور میرے پاس نہ کوئی چیز ہے جو میں بیچ کر ادا کرسکوں اور گھر کے تمام کاغذات اس شخص کے پاس ہیں، میری رہنمائی فرمائیں اور میں سود جیسی لعنت سے بچنا چاہتا ہوں۔
نوٹ: سائل سے رابطہ کرنے سے معلوم ہوا کہ مذکور گھر بتیس لاکھ (۳۲۰۰,۰۰۰) روپے کا ہے اور تیس لاکھ ادا کرچکے ہیں اور صرف دو لاکھ ادا کرنے ہیں۔
سائل کے پاس اگر مذکور قرض منہا کرنے کے بعد بقدرِ نصاب کوئی چیز نہ بچتی ہو تو مستحق زکوٰۃ ہونے کی وجہ سے اس کیلئے زکوٰۃ کی مد سے لینا بھی جائز اور درست ہے، تاہم زکوٰۃ کا مانگنا درست نہیں اس سے احتراز لازم ہے۔
فی الدر مدیون لا یملک نصابًا فاضلًا عن دینہ وفی الظھریة الدفع للمدیون اولٰی منہ للفقیر. الخ (ج۲، ص۳۴۳)
وفیہ ایضًا: وکرہ إعطاء فقیر نصابًا او أکثر إلا اذا کان المدفوع الیہ مدیونًا او کان صاحب عیال بحیث لو فرقہ علیھم لا یخص کلأ او یفضل بعد دینہ نصابًا فلا یکرہ. الخ (ج۲، ص۳۵۳)
وفی الھندیة: ویجوز دفعھا إلی من یملک أقل من النصاب وإن کان صحیحًا مکتسبًا. الخ (ج۱، ص۱۸۹) واللہ اعلم بالصواب