مفتی صاحب! کئی سالوں پہلے میرے والد صاحب پر کسی نے کچھ رقم کا دعویٰ کیا تھا، جس سے میرے والد انکاری ہوئے تھے، لیکن اب میرے والد گرامی کے دل میں ایک شک ہے کہ اس شخص کی واقعی مجھ پر رقم ہو، اس لئے جورقم کا دعویٰ اس نے کیا تھا وہ اس کو دینا چاہتے ہیں، لیکن اس شخص کا زندہ مردہ کسی صور ت حال کا کچھ اتہ پتہ نہیں ہے، تو اس معاملہ میں آپ کی راہ نمائی چاہئیے کہ کسی غریب کو دے دیں، کیا کریں ؟ میرے والد اپنی زندگی میں یہ بوجھ اتار نا چاہتے ہیں۔ جزاک اللہ خیراً
اگر سائل کے والد کو غور و فکر کے بعد اس بات کا یقین یا غالب گمان ہوا ہو کہ اس کے ذمہ مذکور شخص کی رقم واجب الادا ہے ، اور متعلقہ شخص یا اس کے ورثاء کے بارے میں تحقیق کے باوجود بھی کچھ پتہ نہ چلے ، تو ایسی صورت میں سائل کے والد پر لازم ہے کہ وہ یہ رقم مذکور شخص کی طرف سے مستحقِ زکوۃ افراد کو صدقہ کر دے، البتہ یہ یادر ہے کہ متعلقہ شخص یا اس کے ورثاء کا علم ہو جانے کی صورت میں سائل کے والد کے لئے انہیں مکمل صورت حال سے آگاہ کرنا اور اس کے بعد اگر وہ صدقہ کی گئی رقم کا مطالبہ کریں تو ان کو مذکور رقم لوٹا نا شرعاً ضروری ہو گا۔
كما في فقه البيوع للعثماني :والذي يقبض هذا المال الحرام بالغصب ؛ وذلك لسهولة التعبير، ويشمل هذا التعبير كل مال حرام لا يملكه المرء في الشرع، سواء كان غصباً، أو سرقة، أو رشوة ، أو رباً في القرض أو ماخوذاً ببيع باطل، وأنه حرام للغاصب الانتفاع به، أو التصرف فیه، فیجب علیه ان یرده إلی مالکه، أو إلی وارثه بعد وفاته، وإن لم یکن لعدم معرفة المالک أو وارثه، أو لتعذر الرد علیه لسبب من الاسباب، وجب علیه التخلص منه یتصدقه عنه من غیر نبة ثواب الصدقة لنفسه اھ (۲/ ۱۰۰۶ مط: معارف القرآن )-
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): والحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لا يحل له ويتصدق به بنية صاحبه، وإن كان مالا مختلطا مجتمعا من الحرام ولا يعلم أربابه ولا شيئا منه بعينه حل له حكما، والأحسن ديانة التنزه عنه اھ (5/ 99)-
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0