السلام علیکم ! کیا عورت کے لئے "کاویری" نامی مہندی کااستعمال درست ہے؟ بنگلہ دیش میں استعمال کے لئے کئی مہندیاں دستیاب ہیں ، ان میں سے " کاویری" مہندی وضو اور غسل کے لئے درست ہوگی؟ کیا کوئی اس میں ایسا کیمیکل ہے جو جلد پر کسی طرح کی تہہ بنا دیتا ہے؟ اگر یہ ایک تہہ بناتا ہے تو کیا یہ تہہ پانی کو جلد تک پہنچنے سے روکتی ہے؟ براہِ مہربانی جواب دیں؟
"کاویری" نامی مہندی کے متعلق ہمیں معلومات نہیں کہ اس میں کون سا کیمیکل استعمال ہوتا ہے ، تاہم اگر اس سے جلد میں تہہ جمتی ہو اور وضو اور غسل میں اعضاء تک پانی پہنچنے میں رکاوٹ بنتی ہو تو اس مہندی کو لگانے کے بعد اس کو اتارے بغیر وضو اور غسل نہ ہوگا۔
کما فی الدر المختار : (و لا يمنع) الطهارة (و نيم) أي خرء ذباب وبرغوث لم يصل الماء تحته (و حناء) و لو جرمه به يفتى(و درن ووسخ) عطف تفسير و كذا دهن ودسومة (و تراب) و طين و لو (في ظفر مطلقا) أي قرويا أو مدنيا في الأصح بخلاف نحو عجين.
و فی رد المحتار : تحت (قوله : به يفتى) صرح به في المنية عن الذخيرة في مسألة الحناء و الطين و الدرن معللا بالضرورة ، قال في شرحها و لأن الماء ينفذه لتخلله و عدم لزوجته و صلابته و المعتبر في جميع ذلك نفوذ الماء و وصوله إلى البدن اهـ لكن يرد عليه أن الواجب الغسل و هو إسالة الماء مع التقاطر كما مر في أركان الوضوء و الظاهر أن هذه الأشياء تمنع الإسالة فالأظهر التعليل بالضرورة و لكن قد يقال أيضا إن الضرورة في درن الأنف أشد منها في الحناء و الطين لندورهما بالنسبة إليه مع أنه تقدم أنه يجب غسل ما تحته فينبغي عدم الوجوب فيه أيضا تأمل اھ (1/154)۔