درجِ ذیل مسئلہ میں قرآن و سنت کی روشنی میں ہماری رہنمائی فرمائیں ، ایک آدمی نے رشتے کے معاملے میں اپنے بیٹوں سے بات کی جس پر باپ نے اپنے بیٹے سے کہا کہ جس کے ساتھ تم نے اپنے بھائی کا نکاح کیا ہے یا تو اس کو طلاق دے دو اور اگر تم طلاق نہیں دیتے تو میں سکھ ہوں اور اگر تمہارے گھر میں آجاؤں یا اگر میں آپ کے ساتھ رہوں گا تو سکھ ہوں گا اور اگر طلاق دو گے تو میں آپ کے ساتھ ہوں، پھر باپ نے ناراضی میں کہا کہ تم سارے رشتے وہاں کر لو، لیکن مجھے چھوڑ دو چاہے میں خود کشی کروں یا جو مرضی ،اب اس معاملے میں باپ کے لئے کیا حکم ہے اور اس کا کیا حل ہے؟
سوال نمبر ۲۔ اور اسی طرح ایک مرتبہ کہا کہ جہاں تم نے نکاح کیا ہے، اگر تم نے طلاق نہ دی تو میں سکھ ہوں تو بیٹے نے ابھی تک طلاق نہیں دی تو میرے لئے کیا حکم ہے؟
صورت مسئولہ میں مذکور الفاظ قسم کے ہیں ، اس کی وجہ سے اگرچہ کفر لازم نہیں ہو گا، مگر مذکور افعال سر انجام دینے کی صورت میں سائل کا والد اپنی قسم میں حانث ہوگا ، جس کے بعد ان پر قسم کا کفارہ لازم ہو گا اور قسم کا کفارہ یہ ہے کہ دس مسکینوں کو صبح شام کھانا کھلائے یادس مسکینوں کو کپڑے پہنائے اور اگر اس پر قدرت نہ ہو تو تین دن مسلسل روزے رکھے ، جبکہ سائل کے والد نے طلاق دینے کا امر اگر کسی امر شرعی کی وجہ سے دیا ہو تو بیٹے پر لازم ہے کہ وہ والد کی اطاعت میں بیوی کو طلاق دیدے اور اگر بیوی بے قصور ہو اور والد بلا کسی شرعی عذر کے بیٹے کو طلاق دینے پر مجبور کر رہا ہو تو اس صورت میں تعمیل حکم واجب نہیں۔
كما في مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح: عن معاذ قال: «أوصاني رسول الله - صلى الله عليه وسلم - بعشر كلمات، قال: " لا تشرك بالله شيئا، وإن قتلت وحرقت، ولا تعقن والديك وإن أمراك أن تخرج من أهلك ومالك، ولا تتركن صلاة مكتوبة متعمدا؛ فإن من ترك صلاة مكتوبة متعمدا فقد برئت منه ذمة الله، ولا تشربن خمرا فإنه رأس كل فاحشة، وإياك والمعصية؛ فإن بالمعصية حل سخط الله، وإياك والفرار من الزحف، وإن هلك الناس، وإذا أصاب الناس موت وأنت فيهم فاثبت، (أنفق على عيالك من طولك، ولا ترفع عنهم عصاك أدبا وأخفهم في الله» ". رواه أحمد. (1/ 132)
و في الدر المختار: (و) القسم أيضا بقوله (إن فعل كذا فهو) يهودي أو نصراني أو فاشهدوا علي بالنصرانية أو شريك للكفار أو (كافر) فيكفر بحنثه لو في المستقبل، أما الماضي عالما بخلافه فغموس. واختلف في كفره (و) الأصح أن الحالف (لم يكفر) سواء (علقه بماض أو آت) إن كان عنده في اعتقاده أنه (يمين وإن كان) جاهلا. و (عنده أنه يكفر في الحلف) بالغموس وبمباشرة الشرط في المستقبل (يكفر فيهما) لرضاه بالكفر اھ (3/ 717، 718)
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله وعنده أنه يكفر) عطف تفسير على قوله جاهلا. وعبارة الفتح: وإن كان في اعتقاده أنه يكفر به يكفر لأنه رضي بالكفر حيث أقدم على الفعل الذي علق عليه كفره وهو يعتقد أنه يكفر إذا فعله اهـ. (3/ 718)
و في التاتارخانيه: الجاهل اذا تكلم بكفر ولم يدر انه كفر لا يكون كفرا و یعذر بالجهل و في الينابع : لا يكون الكفر كفرا حتى لا يعقد على القلب اھ (۵/458)
و في الدر المختار: قال (إن كلمته) أي عمرا (إلا أن يقدم زيد أو حين أو إلا أن يأذن أو حتى يأذن فكذا فكلمه قبل قدومه أو) قبل (إذنه حنث و) لو (بعدهما لا يحنث) لجعله القدوم والإذن غاية لعدم الكلام اھ (3/ 795)
بدحواسی میں خدا تعالیٰ کو بُرا بَھلا کہنے اور قرآن کریم کو شہید کرنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1اللہ کی قسم ’’میں اسلام سے پیچھے ہٹ گیا، میں نہیں مانتا اب کسی چیز کو‘‘ کہنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 0اللہ تعالیٰ کی ذاتِ باری کے حق میں نازیبا الفاظ کہنے والے سے متعلق مختلف سوالات
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1