جناب مفتی صاحب! تقریباً دو سال سے گیس کا مسئلہ ہے، میرا وضو قائم نہیں رہتا ،ایک نماز کے لئے کئی کئی دفعہ وضو کرنا پڑتاہے، میرے لئے کیا حکم ہے؟
سائل کو اگر گیس کی تکلیف اس قدر تسلسل سے ہو کہ اس کے تسلسل کی وجہ سے نماز کے پورے وقت میں اتنا وقت بھی نہ ملے کہ جس میں وہ شخص کامل طہارت کے ساتھ فقط وقتیہ فرض ادا کرسکے، تو اس صورت میں شرعاً وہ معذور کے حکم میں ہوگا، اور اس کی تفصیل یہ ہے کہ مثلاً ظہر کی ادائیگی کیلئے وہ ظہر کے ابتدائی وقت سے اخیر وقت تک انتظار کرے، اگر اس دوران اسے اتنا وقت بھی نہ ملے کہ وہ کامل طہارت کے ساتھ نمازِ ظہر ادا کرسکے، تو عصر کا وقت داخل ہونے سے قبل ظہر کے اخیر وقت میں وضو کرکے فقط فرض نماز پڑھے، اس کے بعد عصر کی نماز کی ادائیگی کیلئے پورا وقت انتظار کرنے کی ضرورت نہیں، بلکہ جماعت سے پہلے وضو کرکے نمازِ عصر باجماعت ادا کرے، اسی دوران گیس خارج ہوتی رہے تو اس سے وضو نہیں ٹوٹے گا، اسی طرح مغرب، عشا، فجر تمام نمازوں کے اوقات کے لئے وضو کرلیا کرے، اور پھر اس وضو سے وہ تمام عبادات (نماز، قرآن کی تلاوت، وغیرہ) بجا لاسکتاہے، اس پورے وقت میں اگر ہوا خارج ہونے کے علاوہ کوئی دوسرا ناقضِ وضو نہ پایا گیا، تو مذکور عذر کے بار بار صادر ہونے سے سائل کا وضو نہیں ٹوٹےگا،البتہ اسی دوران اگر پورا وقتِ نماز ایسا گزرے کہ اس پورے وقت میں یہ عذر اُسے ایک مرتبہ بھی لاحق نہ ہو تو وہ شرعاً معذور نہیں رہے گا، اس مسئلہ کو اچھی طرح سمجھ کر اس کے موافق عمل کرنے کی ضرورت ہے۔
کما فی الدر المختار: (وصاحب عذر من به سلسل) بول لا یمکنه إمساکه (أو استطلاق بطن أو انفلات ریح وأ استحاضة) أو بعینه رمد أو عمش أو غرب، وکذا کل ما یخرج بوجع ولو من أذن وثدی وسرة (إن استوعب عذره تمام وقت صلاة مفروضة (بأن لا یجد فی جمیع وقتها زمنا یتوضأ ویصلی فیه خالیا عن الحدث (ولو حکما) لأن الانقطاع الیسیر ملحق بالعدم (وهذا شرط) العذر (فی حق الابتداء وفی) حق (البقاء کفی وجوده فی جزء من الوقت) ولو مرة (وفی) حق الزوال یشترط (استیعاب الانقطاع) تمام الوقت (حقیقة) لأنه الانقطاع الکامل.
وحکمه الوضوء) لا غسل ثوبه ونحوه (لکل فرض) اللام للوقت کما فی ﴿لدلوك الشمس﴾ (الاسراء ۷۸) (ثم یصلی) به (فیه فرضا ونفلا) فدخل الواجب بالأولٰی (فإذا خرج الوقت بطل) أی: ظهر حدثه السابق حتی لو توضأ علی الانقطاع ودام إلی خروجه لم یبطل بالخروج مالم یطرأ حدث آخر أو یسیل کمسألة مسح خفه وأفاد أنه لو توضأ بعد الطلوع ولو لعید أو ضحی لم یبطل إلا بخروج وقت الظهر. (وإن سال علی ثوبه) فوق الدرهم (جاز له أن لا یغسله إن کان لو غسله تنجس قبل الفراغ منها) أی: الصلاة (وإلا) یتنجس قبل فراغه (فلا) یجوز ترك غسله، هو المختار للفتوی. (۱/ ۳۰۵، ۳۰۶)
وفی حاشیة ابن عابدین تحت (قوله: ونحوه) کالبدن والمکان ط (قوله: اللام للوقت) أی: فالمعنی لوقت کل صلاة، بقرینة قوله بعده فإذا خرج الوقت بطل، فلا یجب لکل صلاة خلافا للشافعی أخذا من حدیث ’’توضئی لکل صلاة‘‘ قال فی الإمداد: وفی شرح مختصر الطحاوی روی أبو حنیفة عن هشام بن عروة عن أبیه عن عائشة رضی اللہ عنها ’’أن النبیﷺ قال لفاطمة بنت أبی حبیش: توضئی لوقت کل صلاة‘‘ ولا شك أنه محکم: لأنه لا یحتمل غیره بخلاف حدیث ’’لکل صلاة‘‘ فإن لفظ الصلاة شاع استعماله فی لسان الشرع والعرف فی وقتها فوجوب حمله علی المحکم وتمامه فیه.
(قوله: ثم یصلی به) أی بالوضوء فیه أی: فی الوقت (قوله: فرضا) أی: أی فرض کان نهر أی: فرض الوقت أو غیره من الفوائت (قوله: بالأولٰی): لأنه إذا جاز له النفل وهو غیر مطالب به یجوز له الواجب المطالب به بالأولٰی، أفاده ح، أو لأنه إذا جاز له الأعلی والأدنی یجوز الأوسط بالأولی (قوله: فإذا خرج الوقت بطل) أفاد أن الوضوء إنما یبطل بخروج الوقت فقط لا بدخوله خلاف لزفر، ولا بکل منهما خلافا للثانی وتأتی ثمرة الخلاف (قوله: أی: ظهر حدثه السابق) أی: السابق علی خروج الوقت. (۱/ ۳۰۶) واللہ اعلم بالصواب