مجھے نماز کے دوران اور عام زندگی میں بھی وسوسے آتے ہیں، نماز کے درمیان اپنےآپ کو وہم سے روکنے کی کوشش میں ذہن میں یہ سوچ آئی کہ اگر اب یہ کام کیا تو نعوذ باللہ اس کا مطلب ہوگا کہ اللہ پر یقین نہیں، یہ صرف دماغ میں سوچا اور پھر اسی وقت وہم کی وجہ سے وہ حرکت ہو جائے تو کیا حکم ہے،جبکہ حقیقت میں پکا یقین ہے کہ اللہ تعالی قادر ہیں، صرف اپنے آپ کو وسوسے میں پڑنے سے روکنے کی کوشش میں یہ ہوا۔
محض وساوس اور خیالات کی وجہ سے ایمان پر کوئی اثر نہیں پڑتا،اس لیے سائلہ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔
کما فی الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) : (وشرائط صحتها العقل) والصحو (والطوع) فلا تصح ردة مجنون، ومعتوه وموسوس، وصبي لا يعقل وسكران ومكره عليها، وأما البلوغ والذكورة فليسا بشرط بدائع(قوله وموسوس) بالكسر ولا يقال بالفتح ولكن موسوس له أو إليه أي تلقى إليه الوسوسة، وقال الليث: الوسوسة حديث النفس، وإنما قيل موسوس لأنه يحدث بما في ضميره(4/ 224)
بدحواسی میں خدا تعالیٰ کو بُرا بَھلا کہنے اور قرآن کریم کو شہید کرنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1اللہ کی قسم ’’میں اسلام سے پیچھے ہٹ گیا، میں نہیں مانتا اب کسی چیز کو‘‘ کہنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 0اللہ تعالیٰ کی ذاتِ باری کے حق میں نازیبا الفاظ کہنے والے سے متعلق مختلف سوالات
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1