السلام علیکم! مفتی صاحب امید ہے کہ آپ خیریت سے ہونگے ۔
ایک مسئلہ دریافت کرناہے، آج کل ایک روایت دیکھنے میں آئی ہے، لوگ قبرستان میں زیارت کے لۓ جاتے ہیں تو قبر میں پانی چھڑکاؤ کرتے ہیں ، دو تین ڈبے پانی کے خرید کر ڈالتے ہیں, اور کوئی مٹی وغیرہ ہموار کرنے کا مقصد نہیں ہوتا ،بلکہ زیارتِ قبور کا حصہ سمجھتے ہیں، اس عمل پر راہ نمائی فرمائیں۔
واضح ہوکہ قبر کی مٹی کو درست کرنا اور اس پر پانی کا چھڑکاؤ کرنا شرعاً جائز اور درست عمل ہے، بلکہ بوقتِ ضرورت پانی کا چھڑکاؤ کرنا بہتر اور افضل ہے، کیونکہ آپﷺ سے اس طرح کرنا ثابت اور منقول ہے، لیکن اس عمل کو زیارتِ قبور کا لازم حصہ اور باعثِ ثواب سمجھ لینا اور جو نہ کرے اس کو بنظرِ حقارت دیکھنا درست نہیں، اس لۓ اس سے احتراز لازم ہے۔
فی حاشية ابن عابدين : (قوله و لا بأس برش الماء عليه) بل ينبغي أن يندب «لأنه - صلى الله عليه و سلم - فعله بقبر سعد» كما رواه ابن ماجه «و بقبر ولده إبراهيم» كما رواه أبو داود في مراسيله «و أمر به في قبر عثمان بن مظعون» كما رواه البزار ، فانتفى ما عن أبي يوسف من كراهته لأنه يشبه التطيين حلية اھ (2/ 237)-
و فی الفتاوى الهندية : و يسنم القبر قدر الشبر و لا يربع و لا يجصص و لا بأس برش الماء عليه و يكره أن يبنى على القبر أو يقعد أو ينام عليه أو يوطأ عليه أو تقضى حاجة الإنسان من بول أو غائط أو يعلم بعلامة من كتابة و نحوه ، كذا في التبيين . و إذا خربت القبور فلا بأس بتطيينها ، كذا في التتارخانية ، و هو الأصح و عليه الفتوى ، كذا في جواهر الأخلاطي . (1/ 166)-