وضو

دورانِ وضو بال برابر جگہ خشک رہنے کا حکم

فتوی نمبر :
47836
| تاریخ :
0000-00-00
طہارت و نجاست / طہارت / وضو

دورانِ وضو بال برابر جگہ خشک رہنے کا حکم

وضو اور غسل میں اعضاء کا دھونا اکثر سنا ہے (مذاکروں وغیرہ میں ) کہ وضو کرتے ہوئے اور غسل کرتے ہوئے اعضاء دھوتے وقت یہ یقینی بنایا جائے کہ بال برابر بھی جگہ خشک نہ رہے ، ورنہ وضو یا غسل نہیں ہوگا ، کیا یہ بات اسلامی لحاظ سے ٹھیک ہے ؟ اس بات کی وجہ سے اکثر پانی بہت استعمال ہوتا ہے اور پانی کا ضیاع محسوس ہوتا ہے ؟ اور جن علاقوں میں پانی کی کمی ہو وہاں زیادہ پریشانی ہوتی ہے ، براہِ مہربانی رہنمائی فرمائیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ فرض غسل میں پورے بدن پر پانی بہانا کہ بال برابر بھی جگہ سوکھی نہ رہے ، اسی طرح وضو میں تینوں اعضاء کو اس طریقے سے دھونا کہ بال برابر بھی جگہ سوکھی نہ رہے ، شرعاً لازم ہے ، ورنہ وضو اور غسل درست نہیں ہوں گے ، تاہم سائل کو اس کی وجہ سے وہم میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں ، بلکہ سنت کے مطابق ہر عضو کو تین مرتبہ دھو لیا جائے ، تو کوئی جگہ باقی نہیں رہتی ، البتہ سردی کے موسم میں جلد خشک ہونے کی وجہ سے پانی نہ پہنچ رہا ہو تو اس صورت میں اہتمام سے پانی پہنچانے کی کو کوشش کرنی چاہیئے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی أحکام القرآن للجصاص : تحت قوله تعالیٰ : (وان کنتم جنباً فاطھروا ) عموم فی ایجاب تطھیر سائر ما یلحقه حکم التطھیر من البدن ، فلا یجوز ترک شیئ منه اھ (2/458)۔
و فی سنن ابی داؤد : عن أبی ھریرۃ قال : قال رسول اللہ ﷺ : ان تحت کل شعرۃ جنابة فاغسلوا الشعر وانقوا البشر اھ (1/37)۔
وفی بدائع الصنائع : وأما رکنه فھو اسالة الماء علیٰ جمیع مایمکن اسالته علیه من البدن من غیر حرج مرة واحدة ، حتیٰ لو بقیت لمعة لم یصبھا الماء لم یجز الغسل و ان کانت یسیرة لقوله تعالیٰ : ( و ان کنتم جنبا فاطھروا ) (الیٰ قوله) فیجب تطھیر ما یمکن تطھیرہ منه بلا حرج اھ ( 1/267)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 47836کی تصدیق کریں
0     1938
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات