تدفین

تدفین کے بعد اجتماعی دعا کرنا

فتوی نمبر :
4789
| تاریخ :
2008-07-14
عبادات / جنائز / تدفین

تدفین کے بعد اجتماعی دعا کرنا

میت کو دفنانے کے بعد اجتماعی دعاء کرنے کا کیا حکم ہے؟ کیا یہ جائز ہے یا بدعت ہے ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اس موقع پر مطلقاً دعا کا ثبوت تو احادیثِ مبارکہ سے ملتا ہے، جس کے جائز ہونے میں کسی قسم کا شبہ نہیں رہتا، تاہم غیر لازم سمجھتے ہوئے اجتماعی طور پر بھی دعاء کر لی جائے تو اس میں کوئی قباحت نہیں اور اگر اس کے ساتھ فرض و واجب جیسا عمل کیا جائے اور نہ کرنے والے کو ملامت اور طعن وتشنیع کانشانہ بنایا جائے تو پھر اس سے احتراز ہی بہتر ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

في حاشية ابن عابدين : (قوله : و جلوس إلخ) لما في سنن أبي داود «كان النبي - صلى الله عليه و سلم - إذا فرغ من دفن الميت وقف على قبره و قال : استغفروا لأخيكم و اسألوا الله له التثبيت فإنه الآن يسأل» و كان ابن عمر يستحب أن يقرأ على القبر بعد الدفن أول سورة البقرة و خاتمتها . اھ (2/ 237)-

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبد الوحید جمال عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 4789کی تصدیق کریں
0     908
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات