میرے والد صاحب نے تین تولے سونا، ۴۰ تولے چاندی کسی شخص کو بطورِ قرض اس طرح دیا ہے کہ جب واپس مقررہ وقت پر کروگے تو مجھے رقم نہیں بلکہ اپنے زیورات مکمل چاہئے وہ شخص اور میرے والد راضی ہوگئے، یہ اس وقت کی بات ہے کہ جب سونا فی تولہ ۵۰۰۰ روپے تھا اس شخص نے کہا کہ جلد واپس کردوں گا، لیکن اب تک واپس نہیں کیا، تقریباً قرضہ لینے کے دو سال بعد ۵۰۰۰ روپے پیش کئے تو ہم نے مجبوراً رقم یہ سوچ کر لیا کہ یہ شخص زیورات تو نہیں دے گا، لہٰذا اس وقت ۵۰۰۰ روپے لینا بہتر ہے، اب ہم نے قانونی طریقہ اپنانے کا سوچا ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا اس وقت کے حساب سے رقم لینی چاہئے یا زیور لینے چاہئیں؟ اگر اس وقت کی رقم لی گئی تو سائل کو نقصان ہے شریعت اس بارے میں کیا کہتی ہے؟
جتنے سونے یا چاندی کی مذکور حساب سے رقم دی گئی اس کی ادائیگی مکمل ہوچکی، اب قیمت بڑھنے کی صورت میں اس کا مطالبہ کرنا درست نہیں اس سے احتراز لازم ہے، البتہ جتنا سونا یا چاندی باقی ہے، اس کا مطالبہ بلاشبہ درست ہے، اور اس سلسلہ میں کوئی قانونی طریقہ بھی اختیار کیا جاسکتا ہے۔
فی الھندیة: رجل اقرض رجلا الف درھم وقبضھا المستقرض ثم ان المقرض قال للمستقرض اصرف الدراھم التی لی علیک بالدنانیر (الی قولہ) فإن اراد الطالب أن یأخذ الدنانیر من المستقرض ودفع الیہ المستقرض باختیارہ جاز ذٰلک وھذا عندھم جمیعًا. (ج۳، ص۲۰۵) واللہ اعلم بالصواب
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0