ہمارے علاقے میں کچھ لوگ اپنے پیروں کو دھونے کے بجائے جوتوں پر مسح کرتے ہیں، اور اس بارے میں ایک حدیث بیان کرتے ہیں ، وہ کیا حدیث ہے؟ اور اس کی صحیح تشریح کیا ہے؟ جوتوں پر مسح کے بارے میں ؟ حوالہ کے ساتھ جواب دینے کی درخواست ہے۔
واضح ہو کہ ائمّہ اربعہ میں سے کوئی بھی جوتوں پر مسح کرنے کا قائل نہیں ہے، جہاں تک جوتوں پر مسح کرنے کی روایت کا تعلق ہے تو اس کے بارے میں یہ بات ذہن نشین رہے کہ آپ علیہ السلام جب نماز کا ارادہ فرماتے اور پہلے سےباوضو ہوتے تو تازہ وضو فرما لیتے اور پاؤں دھونے کے بجائے نعلین مبارک پر مسح فرماتے۔ یہی صورت روایت میں مُراد ہے، لیکن اگر پہلے سے وضو نہ ہوتا تو پھر وضو میں باقاعدہ پاؤں بھی دھوتے۔
ففی معارف السنن: لم یذهب أحد من الأئمة إلی جواز المسح علی النعلین اھ (۱/ ۳۴۷)
وفی مسند أحمد: عن على: أنه دعا بكوز من ماء، ثم قال: أين هؤلاء الذين يزعمون أنهم يكرهون الشراب قائماً؟ قال: فأخذه فشرب وهو قائم، ثم توضأ وضوءاً خفيفاً ومسح على نعليه، ثم قال: هكذا وضوء رسول الله - صلى الله عليه وسلم - للطاهر ما لم ُيحُدْث اھ (2/ 27)
وفی صحيح ابن خزيمة: عن علي أنه دعا بكوز من ماء، ثم توضأ وضوءا خفيفا، ثم مسح على نعليه "، ثم قال: «هكذا وضوء رسول الله - صلى الله عليه وسلم - للطاهر ما لم يحدث» اھ(1/ 100) واللہ أعلم بالصواب!