والد صاحب انتقال فرما گئے، اور وہ بینک کے ملازم تھے ،جب کہ بینک کی کمائی حرام ہے، اسی لئے انہوں نے اپنی زندگی میں اسے استعمال نہیں کیا، اب ان کے انتقال فرمانے کے بعد ان کے ترکے میں جتنے بھی پیسے ہیں، اس کا شرعی حکم بتائیں ۔شکریہ
سائل نے یہ وضاحت نہیں کی ہیکہ سائل کے والد مرحوم کون سے بینک کے ملازم تھے، اور ان کی ذمہ داری کیا تھی؟ تاکہ اس کے مطابق جواب دیا جاتا ،تاہم اگر سائل کا والد کسی سودی بینک کی ایسی ملازمت سے وابستہ تھے، جس کا تعلق براہ ِراست سودی لین دین سے تھا ،تو اس ملازمت سے حاصل ہونے والی آمدنی کے متعلق حکم یہ ہیکہ اگر مرحوم کے ورثاء مستحق نہ ہوں ،تو اس رقم کو اپنے استعمال میں لانے کے بجائے صدقہ کرنا چاہیئے، البتہ اگر ور ثاء مستحق ہوں تو اس رقم کو اپنے استعمال میں بھی لا سکتے ہیں۔
ففي حاشية ابن عابدين: وفي منية المفتي: مات رجل ويعلم الوارث أن أباه كان يكسب من حيث لا يحل ولكن لا يعلم الطلب بعينه ليرد عليه حل له الإرث والأفضل أن يتورع ويتصدق بنية خصماء أبيه. اهـ (إلی قوله) وإن كان مالا مختلطا مجتمعا من الحرام ولا يعلم أربابه ولا شيئا منه بعينه حل له حكما، والأحسن ديانة التنزه عنه (5/ 99)۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1