محترم مفتی صاحب!
میری والدہ کی قبر اسی(۸۰) فیصد ٹوٹ کر گرگئی ہے صرف سرہانہ کی ٹائلیں محفوظ ہیں۔ ایک عالم سے رابطہ کرنے پر انہوں نے رائے دی کہ قبر کی مرمت کے سلسلہ میں شریعت میں سختی نہیں ہے۔ براہ ِکرم آپ بتائیں کہ مجھے کیا کرنا چاہیے؟ کیا اسلام مرمت کی اجازت دیتا ہے کہ نہیں؟ اگر اجازت ہے تو چونکہ لاش کی حالت سے واقف نہیں تو اس کی کیا صورت اختیار کی جائے؟
مذکور قبر کو دوبارہ بنانے کےبجائے اس پر مٹی ڈال کر قبر نما برابر کر دیا جائے۔