مفتی صاحب! ہمارے والد کی دو بیویاں ہیں جنہوں نے والد کے انتقال کے بعد دوسری شادی کر لی ہے، ان کا جائیداد میں حصہ ہے یا نہیں ؟یہ بتا دیں اور ہم پانچ بھائی دو بہنیں ہیں شریعت کے مطابق جائیدادتقسیم کرنی ہے،لہذا ہماری رہنمائی کریں اور ہماری جائیداد کو تقسیم کر دیں والد کی ٹوٹل جائیداد کی رقم 45 لاکھ 76 ہزار 487 روپے ہے۔
واضح ہو کہ مرحوم کے بیوہ کا عدت وفات کے بعد کسی دوسری جگہ شادی کرنے سے وہ اپنے مرحوم شوہر کے ترکہ میں سے اپنے حصہ شرعیہ سے محروم نہیں ہوتی، بلکہ دوسری جگہ شادی کرنے کے باوجود بھی اپنے حصہ شرعیہ کے حقدارہوگی۔
لہذا سائل کے والد مرحوم کی دونوں بیواؤوں نے عدت وفات کے بعد اگرچہ دوسری جگہ شادی کرلی ہو، تب بھی وہ اپنے مرحوم شوہر کے ترکہ میں اپنے حصہ شرعیہ کی حقدارہوں گی ، اس لیے سائل یا کسی دوسری بھائی کا ان کو حصہ شرعیہ نہ دینا شرعاجائز نہیں، بلکہ غصب کے زمرے میں آئے گا، جس سے بہرصورت اجتناب لازم ہے۔
جبکہ مرحوم کا ترکہ اس کے مذکورورثاء میں اصول میراث کے مطابق اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم نے بوقت انتقال جوکچھ منقولہ و غیرمنقولہ مال وجائیداد ،سوناچاندی، نقدی ،زیورات اور دیگر ہر قسم کا گھریلوسازوسامان اپنی ملکیت میں چھوڑاہو، اس میں حقوق متقدمہ علی المیراث (کفن دفن کے متوسط مصارف، واجب الادا قرضوں کی ادائیگی، اوراگردونوں بیواوں کا حق مہر ادا نہ کیا تو اس کی ادائیگی ،اسی طرح اگرکوئی جائزوصیت کی ہوتو ایک ثلث کی حد تک اس پر عمل کرنے)کے بعدجو کچھ بچ جائے، اس کے کل 96 حصے بنائے جائیں ،جس میں مرحوم کی ہربیوہ کو چھ حصے یعنی ٪6.25فیصد، ہربیٹے کو 14 حصےیعنی ٪14.583 فیصد اور ہر بیٹی7 حصے یعنی ٪7.291فیصد دیدیں۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1