والدہ کی انتقال کے بعد نانا کی وراثت میں حصہ ہوتا ہے ؟
سائل کا سوال غیر واضح اور مبہم ہے، سائل نے یہ نہیں لکھا کہ سائل کی والدہ کا انتقال پہلے ہوایا نانا کا؟ اگروالدہ کا انتقال پہلے ہوا ہے اور نانا کا بعد میں ہواہے اور سائل کے نانا کے دیگر اولاد بیٹے اور بیٹیاں موجود ہیں، تو نانا کی حیات میں سائل کی والدہ کا انتقال ہونے کی صورت وہ اپنے والد (سائل کے نانا)کے جائیداد میں ترکہ کا حقدارنہ ہوگی، تاہم اگرسوال کی نوعیت کچھ اور ہو، تو پوری صورت حال کی وضاحت اور ورثاء کی مکمل تفصیل اور کس وارث یا مورث کا انتقال کس وقت ہوا؟ یہ پوری تفصیل کے ساتھ لکھ ارسال کردے، یا کسی قریبی دارالافتاء سے رجوع کرکے حکم شرعی معلوم کرلے۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1