السلام علیکم۔
عرض یہ ہے کہ ہمارے حاجی افسر خان صاحب کا انتقال ہوگیا ہے , جن کی اولاد میں کوئی نہیں ہے اور نہ ہی والدین اس دنیا میں موجود ہیں , مرحوم حاجی افسر صاحب نے دو بیٹے گود لیے تھے جن میں سے ایک حاجی اقبال جو کہ رشتے میں ان کی ہمشیرہ کا بیٹا ہے, دوسرا حاجی عمر خطاب جو کہ رشتے میں ان کے بھائی کا بیٹا ہے , مرحوم حاجی افسر صاحب نے اپنی جائیداد کا کچھ حصہ اپنی زندگی میں ہی ان دونوں کے نام کردیا تھا , مرحوم حاجی افسر صاحب کے خونی رشتوں میں سے تین بہنیں اور دو بھائی تھے جن میں سے دو بہنیں اور ایک بھائی کا انتقال مرحوم حاجی افسر صاحب کی زندگی میں ہی ہو گیا تھا , مرحوم حاجی افسر صاحب کے وفات کے وقت ان کا ایک بھائی اور ایک بہن موجود ہیں معلوم یہ کرنا تھا کہ !
1-مرحوم حاجی افسر صاحب کی بقیہ جائیداد کن کن میں اور کیسے تقسیم ہوگی ؟ اور جو دو بہنیں اور ایک بھائی کا انتقال ہوگیا تھا ان کی اولاد اس دنیا میں موجود ہے ان کو اس جائیداد میں سے کتنا حصہ آنا ہے ؟
2۔ جو جائیداد مرحوم حاجی افسر صاحب اپنی زندگی میں دو بچوں کے نام کر گئے تھے وہ جائیداد ان بچوں کے لئے جائز ہے یا نہیں ؟
سائل نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ مرحوم حاجی افسر نے اپنی زندگی میں جو جائیداد اپنے گود لیے ہوئے بیٹوں کے نام کی تھی ، وہ محض کاغذات میں نام کی تھی ، یا انہیں باقاعدہ اس پر مالکانہ حقوق کے ساتھ قبضہ بھی دیا تھا ؟ تاہم اگرانہوں نے اپنے گود لیے ہوئے بیٹوں کوباقاعدہ مالک و قابض نہ بنایا ہو بلکہ محض کاغذات میں نام کیا ہو ، تو اس سے وہ گود لیے ہوئے بیٹے اس جائیداد کے مالک نہیں بنے ، بلکہ وہ جائیداد مرحوم کی ملکیت میں ہی رہی ، جو اب اس کی وفات کے بعد دیگر ترکہ کے ساتھ شامل کرکےمرحوم کے ورثاء میں حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم ہوگی ، جبکہ مرحوم کے جو بھائی اور بہنیں اسے کی زندگی میں وفات پاچکے
ہیں ، وہ چونکہ مرحوم کے وراثت میں حصہ دار نہیں بن سکتے ، اس لئے ان کے توسط سے ان کی اولادیں بھی مرحوم کے ترکہ میں حصہ دارنہ ہوگی ، البتہ اگرمرحوم کے انتقال کے وقت فقط ایک بھائی اور بہن حیات ہوں, اور بیوہ کا انتقال بھی اس کی زندگی میں ہوچکا ہو ، تو کل ترکہ ان دونوں کے درمیان تقسیم ہوگا ، تاہم اگر یہ دونوں مرحوم کے گود لئے بچوں کو بھی کچھ دینا چاہیں, تو دے سکتے ہیں -
اس کے بعد واضح ہو کہ مرحوم کا ترکہ اصول میراث کے مطابق اس کے مذکورورثاء میں اس طرح تقسیم ہوگا ، کہ مرحوم نے بوقتِ انتقال جو کچھ منقولہ و غیر منقولہ مال و جائیداد ، سونا چاندی ، نقدی و زیورات اور دیگر گھریلو ساز و سامان اپنی ملکیت میں چھوڑا ہے ، اس میں سے حقوقِ متقدمہ علی المیراث(کفن و دفن کے متوسط مصارف، واجب الادا قرضوں کی ادائیگی ، اور اگر کوئی وصیت کی ہو ، تو کل مال کے ایک ثلث کی حدتک اس پر عمل)کے بعد جو کچھ بچ جائے اس کل تین حصے کرکے دو حصے ( یعنی % 66 6 .66 ) مرحوم کے بھائی کو جبکہ ایک حصہ ( یعنی % 33.333 ) مرحوم کے بہن کو دیدیں -
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1