السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
میں نے اپنے دوست کو کچھ پیسے ادھار دیے تھے اب وہ نہیں مان رہا ہے تو غصے میں اگر میرے منہ سے یہ بات نکلی کہ میں نے آپ
کو بخش دیے ہیں ، اب وہ مجھے میرے پیسے لوٹا رہا ہے شرعی حکم کے مطابق میں یہ پیسے لے تو نہیں سکتا، پھر وہ میری جگہ میرے بتائے ہوئے کسی غریب کو دے سکتا ہے یہ پیسے کہ نہیں ؟اس بارے میں شرعی حکم کیا ہے؟ جزاک اللہ خیرا
سائل نے اپنے دوست کو جو رقم بطور قرض دی تھی اگر اس کا کوئی ثبوت ہو یا مذکور دوست اس کا اقرار اور اعتراف کرچکا ہو تو ایسی صورت میں اگر چہ سائل نے دوست کے انکار کی وجہ سے غصے میں اسے یہ کہہ دیا تھا کہ " میں نے آپ کو بخش دیے ہیں" تب بھی اگر سائل کا دوست قرض کی ادائیگی کرنا چاہے تو سائل کے لئے اپنا قرض قصول کرنا جائز اور درست ہے، تاہم اگر سائل وہ رقم خود لینے کے بجائے کسی فقیر کو دینا چاہے، تو دوست سے وصول کرنے کے بعد ازخود یا اپنے دوست کو بتا کر کسی قفیر کو بھی دے سکتا ہے۔
کما فی مشکاۃ المصابیح: عن أبی قتادۃ قال قال رسول اللہ ﷺ من سرہ أن ینجیہ اللہ من کرب یوم القیامۃ فلیس عن معسر أو یضع عنہ رواہ مسلم (2/877)۔
وفی مرقاۃ المفاتیح: شرح مشکاۃ المصابیح: (فلیس) بتشدید الفاء أی فلیؤخر مطالبتہ (عن معسر) أی الی مدۃ یجد مالا فیھا (أو یضع، بالجزم أی یحط و یترک عنہ أی عن المعسر أو بعضہ، فائدۃ: الفرض من النفل بسبعین درجۃ الا فی مسائل، الأولی، ابراء المعسر مندوب وھو أفضل من انظارہ الواجب (5/1954)۔
و فی دررالحکام: فَإِنَّ الدَّائِنَ إذَا قَالَ لِمَدْيُونِهِ: تَرَكْت لَك دَيْنَك كَانَ إبْرَاءً لَهُ وَلَوْ قَالَ: أَخَّرْت عَنْك لَا يَكُونُ إبْرَاءً كَذَا فِي الْمُحِيطِ اھ(2/431)۔
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0