میرا سوال وراثت سے متعلق ہے ،ہم تین بھائی ایک بہن ہیں والدہ حیات ہیں والد صاحب کا انتقال 2007 میں ہو گیا تھا، 2002 میں والد صاحب نے میرے نام سے ایک دفتر پروپرٹی خریدی چونکہ میں نے اپنا کام کرائے کے دفتر سے اپنے بڑے بھائی کے ساتھ شروع کیا تھا اور کرایہ نکالنا مشکل ہو رہا تھا تو والد صاحب نے یہ دفتر خریدا جو کے میں نے پہلے اپنے بڑے بھائی کے نام کرنے کی تجویز دی مگر وہ ملک سے باہر رہتے تھے تو اس طرح یہ دفتر میرے نام سے لیا گیا ، براے مہربانی وراثت کے حوالے سے رہنمائی فرمایے کے اس دفتر کی وراثت کیسے تقسیم ہوگی۔
اگرسائل کے والد مرحوم نے یہ دفتر محض کاغذات میں سائل کے نام کیاہو، خریدکر اسے ملکیتا نہ دیاہو، تو یہ بھی سائل کے والد مرحوم کا ترکہ کہلائیگا، جس میں سائل سمیت اس کے دیگر بہن بھائی اور والدہ سب اپنے حصص شرعیہ کےبقدر حقدارہوں گے۔ اور دیگر ترکہ کی طرح تمام ورثاء میں اس کی تقسیم بھی لازم ہوگی۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1