السلام علیکم!
میرا سوال ہے کہ اگر باپ کی زندگی میں بیٹے کا انتقال ہوجائے،تو کیا اس بیٹے کے بچوں کا حصہ داد کی وراثت میں بنتا ہے یا نہیں ؟
مرحوم بیٹا اگر اپنے والد سے پہلے انتقال کرجائے ، تو اس کی اولاد کا اپنے دادا کے ترکہ میں شرعا کوئی حصہ نہیں ہوتا اور نہ ہی انھیں دیگر ورثاء سے ترکہ میں حصہ داری کے مطالبہ کا حق حاصل ہوتا ہے ، البتہ اگر دیگر ورثاء اپنے حصص میں سے انھیں کچھ دینا چاہیں تو اس کا انھیں اختیار ہے ، اور باعث اجر وثواب بھی ہے ، مگر ایسا کرنا ان پر لازم نہیں۔واللہ اعلم
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1