السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
زید خالد کا مدیون تھا، زید اور عمرو نے اتفاق سے یہ طے کیا کہ عمرو دین ادا کریگا اور خالد اس پر آمادہ ہوگیا، اور خالد کو یہ معلوم نہیں کہ عمرو زید کا مدیون تھا یا نہیں، اس اثناء میں ایک پائی بھی عمرو نے خالد کو ادانہیں کی کہ عمرو کا انتقال ہوگیا اور اس کے ترکے میں بھی اتنی میراث نہیں کہ اس سے دین ادا ہوسکے، کیا اس صورت میں خالد دوبارہ اپنے دین کی وصولی کیلئے زید پر رجوع کا حق رکھتا ہے یا نہیں؟ از راہِ کرم تحریری جواب عنایت فرمادیجئے جراکم اللہ خیراً۔
عمرو نے اگر زید اور خالد کی رضامندی سے زید کی طرف سے خالد کو قرض کی ادائیگی کے ذمہ داری قبول کرلی تھی تو شرعاً یہ معاملہ درست منعقد ہوچکا تھا، چنانچہ عمرو کے ذمہ اپنی زندگی میں خالد کو اس کے قرض کی ادائیگی لازم تھی، لیکن اگر عمرو کا قرض کی ادائیگی سے قبل انتقال ہوچکا ہو، اور اس نے ترکہ میں بھی کچھ نہ چھوڑا ہو جس سے خالد کے قرض کی ادائیگی کی جاسکے اور عمرو کی موت کی وجہ سے خالد کے قرض کے ضائع ہونے کا اندایشہ ہو تو ایسی صورت میں اب خالد ، زید سے اپنے قرضے کا مطالبہ کرسکتا ہے۔
کما فی الھندیۃ:قال:"وهي جائزة بالديون" قال عليه الصلاة والسلام: "من أحيل على مليء فليتبع" ولأنه التزم ما يقدر على تسليمه فتصح كالكفالة، وإنما اختصت بالديون لأنها تنبئ عن النقل والتحويل، والتحويل في الدين لا في العين.( الی قولہ) قال: "ولا يرجع المحتال على المحيل إلا أن يتوى حقه" وقال الشافعي رحمه الله: لا يرجع وإن توي لأن البراءة حصلت مطلقة فلا تعود إلا بسبب جديد. ولنا أنها مقيدة بسلامة حقه له إذ هو المقصود، أو تنفسخ الحوالة لفواته لأنه قابل للفسخ فصار كوصف السلامة في المبيع. قال: "والتوى عند أبي حنيفة رحمه الله أحد الأمرين: إما أن يجحد الحوالة ويحلف ولا بينة له عليه، أو يموت مفلسا" لأن العجز عن الوصول يتحقق بكل واحد منهما وهو التوى في الحقيقة "وقالا هذان الوجهان. ووجه ثالث وهو أن يحكم الحاكم بإفلاسه حال حياته"الخ (3/99 كتاب الحوالةحكمها وشروطها)۔
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0