تین بھائیوں اور تین بہنوں میں کس تناسب سے میراث تقسیم ہوگی ؟
سوال میں مذکور ورثاء کے علاوہ اگر مرحوم کا کوئی اور وارث نہ ہو،اور مرحوم کے بعد اس کی اولاد میں سے کسی کا انتقال بھی نہ ہوا ہو اور مرحوم کی بیوہ اور والدین بھی اس سے قبل انتقال کرگئے ہوں تو درج ذیل طریقہ سے ترکہ تقسیم ہوگا۔
حقوق متقدمہ علی المیراث(تجہیز و تکفین،قرض کی ادائیگی اور ایک تہائی کی حد تک جائز وصیت پر عمل کرنے کے بعد )جو کچھ بچ جائے اس کے کل نو حصے کئے جائیں،جس میں سے ہر بھائی کو دو حصے اور ہر بہن کو ایک حصہ دیاجائے،جبکہ فیصدی اعتبار سے ہر بھائی کو ٪22.22 اور ہر بہن کو ٪11.11 حصہ دیا جائے۔
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1