کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کسی مسجد میں روزانہ پانچ وقت کی نماز باجماعت اکثر ادا نہ ہوتی ہو تو ایسی مسجد میں جمعہ کی نماز ادا کرنا درست ہے یا نہیں؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمادیں۔ بینوا توجروا! المستفتی: عقیل صاحب
کسی جگہ نماز جمعہ وعیدین کے قیام کیلئے پنج وقتہ نماز باجماعت کا قیام ضروری نہیں بلکہ اس جگہ کا شہر یا اُس کے متصل اُس آبادی کاہونا شرط ہے جس کی ضروریات زندگی شہر کے ساتھ اور شہر والوں کی اس بستی کے ساتھ منسلک ہوں (جسے اصطلاح ِ فقہاء میں فناء مصر سے تعبیر کیا جاتا ہے)، لہٰذا مذکور مسجد بھی اگر کسی ایسے مقام پر واقع ہے تو اس میں نمازِ جمعہ کا قیام بلاشبہ جائز اور درست ہے ورنہ احتراز واجب ہے۔
وفی الھدایۃ: لا تصح الجمعۃ الا فی مصر جامع أو فی مصلی المصر ولا تجوز فی القریٰ لقولہ علیہ السلام لا جمعۃ ولا تشریق ولا فطر ولا أضحی الّا فی مصر جامع، والمصر الجامع کل موضع لہ أمیر و قاضٍ ینفذ الاحکام ویقیم الحدود۔ (ج۱، ص۱۲۷) واللہ اعلم
بدحواسی میں خدا تعالیٰ کو بُرا بَھلا کہنے اور قرآن کریم کو شہید کرنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1اللہ کی قسم ’’میں اسلام سے پیچھے ہٹ گیا، میں نہیں مانتا اب کسی چیز کو‘‘ کہنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 0اللہ تعالیٰ کی ذاتِ باری کے حق میں نازیبا الفاظ کہنے والے سے متعلق مختلف سوالات
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1