وضو

شیعہ لڑکے کا سنی لڑکی سے نکاح

فتوی نمبر :
58759
| تاریخ :
2004-02-02
معاملات / احکام نکاح / وضو

شیعہ لڑکے کا سنی لڑکی سے نکاح

کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شیعہ مذہب سے تعلق رکھنے والا لڑکا (جو اپنے آپ کو رضوی خاندان کابتاتا ہے) اس کا سنی مذہب سے تعلق رکھنے والی لڑکی سے شادی کرنا کیسا ہے؟ اس شادی کا مذہبِ اسلام میں کیا حکم ہے؟ اور ایسی شادی کرنے والی لڑکی اور اس کے ماں باپ پر کیا اور کون سی ذمہ داری عائد ہوتی ہے؟
از راہِ کرم قرآن و حدیث سے دلائل کی روشنی میں تفصیلاً جواب مرحمت فرمائیں ،نوازش ہوگی
یاد رہے کہ مذکور شادی ابھی ہوئی ہنہیں ہے ،صرف رشتہ طے ہوا ہے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

شیعوں کے مختلف فرقے ہیں اور ہر فرقہ کے عقائد مختلف ہیں اس لئے شیعہ کو کافر قرار دینے میں تفصیل ہے وہ یہ کہ جس شیعہ کے عقائد و نظریات یہ ہوں کہ مثلاً حضرت علیؓ کو خدا مانتا ہو یا قرآن میں تحریف کا قائل ہو یا حضرت جبرائیل علیہ السلام کے وحی لانے میں غلطی کرنے کا عقیدہ رکھتا ہو یا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر لگائی جانے والی تہمت کو سچا مانتا ہو یا حضرت ابوبکر صدیقؓ کی صحابیت کا منکر ہو یا اس قسم کاکوئی اور مخالفِ قرآن صریح کفریہ عقیدہ رکھتا ہو تو وہ بلاشبہ کافر ہے اور اس قسم کے شیعوں کے ساتھ شادی بیاہ کے معاملات کرنا جائز نہیں۔
اب چونکہ روافض کے کئی ایک فرقے ہیں اور ہر فرقہ کے عقائد کے اعتبار سے اس کا حکم بھی جدا ہے، اور پھر تقیہ ان کے مذہب کی بنیاد اور شعار ہے جس کی وجہ سے ان میں تفریق اور امتیاز یقیناً مشکل ہے اس لئے مذکور لڑکے کا بھی اگر ایسا ہی معاملہ ہو تو اس کے ساتھ کسی سنی العقیدہ لڑکی کا نکاح جائز نہیں، لڑکی کے والدین کو اس نکاح سے احتراز واجب ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

وفی الشامیۃ: نعم لا شک فی تکفیر من قذف السیدۃ عائشۃؓ او انکر صحبۃ الصدیقؓ او اعتقد الالوھیہ فی علیؓ او ان جبرئیل غلط فی الوحی او نحو ذالک من الکفر الصریح المخالف للقرآن۔ (ج۴، ص۲۳۷)ـ
وفی الشامیۃ: ولا یخفی ان قولہ یا رافضی بمنزلۃ یا کافر او یا مبتدع فیعزر لان الرافضی کافر إن کان یسب الشیخین، مبتدع ان فضل علیّا علیھما من غیر سب۔ (ج۴، ص۷۰) واﷲ اعلم بالصواب

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 58759کی تصدیق کریں
0     2356
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات