وضو

استخارہ کے ذریعہ کسی دن کو شادی کے لیے نامناسب قرار دینا

فتوی نمبر :
58793
| تاریخ :
2011-04-11
معاملات / احکام نکاح / وضو

استخارہ کے ذریعہ کسی دن کو شادی کے لیے نامناسب قرار دینا

بخدمت جناب مفتی صاحب! السلام علیکم!
میں اپنے بھائی کی شادی کی تاریخ پندرہ(۱۵) ذی الحجۃ رکھنا چاہتا ہوں، مگر لڑکی والے مزید ۱۵ دن کے بعد کی تاریخ دینا چاہ رہے ہیں، ان لوگوں کا کہنا ہے کہ استخارہ کے حساب سے یہ ۱۵ ذی الحجہ کی تاریخ مناسب نہیں ہے، مجھے یہ معلوم کرنا ہے کہ شریعت کے حساب سے شادی کے معاملات میں تاریخوں کی تعیین درست ہے یا نہیں؟ براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

کسی دن یا تاریخ کے بارے میں یہ کہنا کہ استخارہ کے اعتبار سے مناسب نہیں، شرعاً غلط و بے بنیاد ہے، بلکہ برابری اور جوڑ کا رشتہ ملنے کی صورت میں جلد سے جلد شادی کروا دینے کی ترغیب دی گئی ہے، اس لیے محض استخارہ کو بنیاد بنا کر کسی تاریخ کو نامناسب قرار دینا اور اس کی بنیاد پر تاخیر درست نہیں، البتہ اگر فریقین اپنی اپنی ضروری تیاری کو ملحوظ رکھتے ہوئے ایک دوسرے کی حاجت و ضرورت کے پیشِ نظر شادی کی تاریخ ممکنہ طور پر طے کرلیں تو اس میں شرعاً حرج نہیں، بلکہ یہ زیادہ بہتر اور شرعاً محمود ہے، جبکہ اس سلسلے میں باہم اُلجھنے اور بحث و مباحثہ سے احتراز چاہیے۔ واللہ أعلم بالصواب

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 58793کی تصدیق کریں
0     727
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات