کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ان مسائل کے بارے میں کہ (۱) اذان ایک کہے اور اقامت دوسرا کہے، بغیر مؤذن کی اجازت کے؟
(۲) نماز فجر کے بعد دعا سے پہلے اُٹھ کر چھ نمبر بیان کرنا یا کوئی اور کام کرنا اس کے متعلق کیا حکم ہے؟
(۳) امام صاحب کے سامنے غیر مؤدبانہ کلمات استعمال کرنے والے کی نماز ایسے امام کے پیچھے صحیح ہے یا نہیں؟
(۴) مغرب کے اذان کے بعد پانچ، چھ منٹ کے تاخیر کے ساتھ نماز پڑھنا کیسا ہے؟
(۵) دورانِ اقامت بآوازِ بلند مقتدی کا کہنا کہ صف کو صحیح بناؤ یا بچوں کو پیچھے کرو کہنا کیا حکم رکھتا ہے؟
(۱) اگرچہ بہتر وافضل ہونے کے ساتھ ساتھ اذان دینے والے کا ہی حق ہے کہ وہ اقامت بھی کہے تاہم اگر کوئی دوسرا محض حصولِ ثواب کی غرض سے اقامت کہہ دے اور اس سے انتظامی امور میں خلل واقع ہوکر کسی قسم کی بدمزگی اور فساد وغیرہ کا اندیشہ نہ ہو یا مؤذن خود کسی کو اقامت کہنے کا موقع دیدے تو اس صورت میں اس دوسرے کیلئے اقامت کہنا بلاشبہ جائز اور درست ہے۔
(۲) اگر مسبوق نمازیوں کی نماز میں خلل واقع نہ ہوتا ہو اور ناگواری کی بناء پر باعثِ فتنہ نہ ہو تو نماز کے بعد متصلاً بیان کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
(۳) امام کے ساتھ بدتمیزی کرنا یا غیر مہذب انداز میں گفتگو کرنا انتہائی درجہ بے ادبی اور گناہ پر مبنی حرکت ہے مگر اس کے باوجود ایسے شخص کی اسی امام کی اقتداء میں نماز ادا کرنا شرعاً جائز اور درست ہے۔
(۴) مذکور مقدار کے بقدر تاخیر سے نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں مگر مستحب یہ ہے کہ ایک بڑی یا تین چھوٹی آیتوں کے بقدر فصل رکھا جائے اس سے زیادہ فصل رکھنے سے احتراز چاہئے۔
(۵) صفوں کو درست کروانا امام کا کام ہے اور اسی کو اس امر کا اہتمام چاہئے کسی اور کو دورانِ اقامت مذکور قسم کی ہدایات دینا درست نہیں خصوصاً جہاں فتنہ کا اندیشہ ہو وہاں اس طرزِ عمل سے احتراز چاہئے۔واﷲ اعلم
(1)لأن السنۃ أن یقیم المؤذن۔ (رد المحتار: ج۱، ص۳۸۸)-
فلا بأس بأن یأتی بکل واحد رجل اٰخر، ولکن الأفضل أن یکون المؤذن ہو المقیم اھـ ای لحدیث ’’من أذن فہو یقیم‘‘۔ (الرد المحتار: ج۱، ص۳۹۶)-
(2)أجمع العلماء سلفا وخلفا علی استحباب ذکر الجماعۃ فی المساجد وغیرہا إلا أن یشوش جہرہم علی نائم أو مصل أو قاریٔ۔ (الدر المختار: ج۱، ص۶۶۰)-
(3)قال رسول اﷲ ﷺ لیس منا من لم یرحم صغیرنا ولم یوقر کبیرنا الحدیث۔ (مشکوٰۃ: ج۲، ص۴۲۳)-
(4)ویثوّب بین الاذان والإقامۃ فی الکل للکل بما تعارفوہ ویجلس بینہما بقدر ما یحضر الملازمون مراعیا لوقت الندب إلا فی المغرب فیسکت قائما قدر ثلاث اٰیات قصار، ویکرہ الوصل إجماعا۔ (الدر المختار: ج۱، ص۳۹۰)-
(5)ویصف أی یصفہم الإمام بأن یأمرہم بذٰلک قال الشمنی وینبغی أن یأمرہم بأن یتراصوا ویسد والخلل ویسنووا مناکبہم۔ الخ (الدر المختار: ج۱، ص۵۶۸)
بدحواسی میں خدا تعالیٰ کو بُرا بَھلا کہنے اور قرآن کریم کو شہید کرنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1اللہ کی قسم ’’میں اسلام سے پیچھے ہٹ گیا، میں نہیں مانتا اب کسی چیز کو‘‘ کہنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 0اللہ تعالیٰ کی ذاتِ باری کے حق میں نازیبا الفاظ کہنے والے سے متعلق مختلف سوالات
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1