کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کسی سے اتفاقاً قرآنِ پاک گر جائے تو کیا اُٹھانے والے کو اس کو چومنا ضروری ہے؟ یا اس کا کوئی ہدیہ (کفارہ) دینا ضروری ہے؟ اگر ایسا ہے تو کتنی رقم یا کتنے لوگوں کو کھلانا ضروری ہے؟
ایسی صورت میں کوئی کفارہ شرعاً واجب نہیں مگر ایسے شخص پر لازم ہے کہ وہ صدقِ دل سے توبہ و استغفار کرے اور آئندہ کیلئے قرآنِ کریم کو مضبوطی اور احتیاط سے پکڑے تاکہ گِرے نہیں، تاہم ایسی صورت میں قرآنِ کریم کو اُٹھاکر اُسے چومنا یا سینے سے لگانا وغیرہ ادب پر دلالت کرتا ہے جو شرعاً بھی مطلوب ہے۔
موبائل میں گانے بھرے ہوئے ہوں تو اس میں تلاوت بھروا سکتے ہیں یا نہیں؟
یونیکوڈ قرآن و حدیث کے آداب و احکام 0