کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہماری طرف ایک مسجد ہے جس میں صرف فجر کی نماز میں دوسری رکعت میں سجدے میں جانے سے پہلے ہاتھ اُٹھائے بغیر دُعائے خصوصی مانگتے ہیں کیا ایسا کرنا جائز ہے یا نہیں؟ مولانا صاحب نے دعائے خصوصی پڑھوانا شروع کی ہے، برائے مہربانی تفصیل کے ساتھ فتویٰ عنایت فرمادیں۔ عین نوازش ہوگی
فتنہ و فساد اور دیگر آفات جب عام ہوجائیں تو ان سے چھٹکارے کیلئے اللہ تعالیٰ کے حضور نمازِ فجر کی دوسری رکعت میں دعا قنوتِ نازلہ کا پڑھنا خود نبی اکرم ﷺ سے بھی ثابت ہے،،لہٰذا اگر امام صاحب موصوف بھی اسی وجہ سے قنوتِ نازلہ پڑھتے ہوں تو یہ جائز ہے اور وہ درست کرتے ہیں اس سے نماز میں کوئی خلل واقع نہیں ہوتا۔
فی الدر: (ولا یقنت لغیرہ) إلّا لنازلۃ فیقنت الإمام فی الجہریۃ۔
وفی الشامیۃ: قولہ إلا لنازلۃ: قال فی الصحاح النازلۃ الشدیدۃ من شدائد الدہر الخ (وقولہ فیقنت الإمام فی الجہریۃ) یوافقہ ما فی البحر(الی قولہ )ولکن فی الاشباہ عن الغایۃ قنت فی صلاۃ الفجر۔ الخ (ج۲، ص۱۱)-
وفی إعلاء السنن: اما السابع فقد قال الحاوی تحت قول ’’الأشباہ‘‘ اذا نزل بالمسلمین نازلۃ قنت الإمام فی صلاۃ الفجر۔ اھـ ما نص وینبغی أن یکون القنوت قبل الرکوع فی الرکعۃ الأخیرۃ۔ الخ (ج۶، ص۱۰۱)-
وفیہ أیضًا: والامر فی رفع الیدین واسع سواء رفع یدیہ قبل الرکوع او بعدہٗ۔ اھـ (ج۶، ص۰۲) واﷲ اعلم
بدحواسی میں خدا تعالیٰ کو بُرا بَھلا کہنے اور قرآن کریم کو شہید کرنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1اللہ کی قسم ’’میں اسلام سے پیچھے ہٹ گیا، میں نہیں مانتا اب کسی چیز کو‘‘ کہنے کا حکم
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 0اللہ تعالیٰ کی ذاتِ باری کے حق میں نازیبا الفاظ کہنے والے سے متعلق مختلف سوالات
یونیکوڈ کفر و موجب کفر 1