کیا فرماتے ہیں علماءِکرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص وضو میں منہ نہیں دھو سکتا کسی عذرِ شرعی کی بناء پر اور باقی اعضاء دھو سکتا ہے ، اب اس کے باقی اعضاء کے دھونے کے بارے میں کیا حکم ہے؟ آیا یہ تیمم کرے یا ان اعضاء کو دھولے؟
ایسی صورت میں شخصِ مذکور کو چاہئے کہ چہرہ کا مسح کرے اور باقی اعضاء کو حسبِ معمول دھونے کا اہتمام کرے-
وفی الدر المختار: (یتم لو) کان (اکثرہ) أی اکثر أعضاء الوضوء عددًا وفی الغسل مساحۃ (مجروحًا) أو بہ جدری اعتبارًا للأکثر (وبعکسہ یغسل) الصحیح، ویمسح الجریح۔ اھـ (ج۱، ص۲۵۷)-
وفی الشامیۃ: تحت (قولہ وبعکسہ) وہو مالو کان اکثر الأعضاء صحیحًا یغسل الخ لکن إذا کان یمکنہ غسل الصحیح بدون إصابۃ الجریح، واِلّا تیمم ،حلیہ۔ الخ (ج۱، ص۲۵۷)-