وضو

چہرے کے علاوہ بقیہ اعضاء دھوسکتا ہو تو وہ کیا کرے

فتوی نمبر :
58999
| تاریخ :
2000-02-02
طہارت و نجاست / طہارت / وضو

چہرے کے علاوہ بقیہ اعضاء دھوسکتا ہو تو وہ کیا کرے

کیا فرماتے ہیں علماءِکرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص وضو میں منہ نہیں دھو سکتا کسی عذرِ شرعی کی بناء پر اور باقی اعضاء دھو سکتا ہے ، اب اس کے باقی اعضاء کے دھونے کے بارے میں کیا حکم ہے؟ آیا یہ تیمم کرے یا ان اعضاء کو دھولے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

ایسی صورت میں شخصِ مذکور کو چاہئے کہ چہرہ کا مسح کرے اور باقی اعضاء کو حسبِ معمول دھونے کا اہتمام کرے-

مأخَذُ الفَتوی

وفی الدر المختار: (یتم لو) کان (اکثرہ) أی اکثر أعضاء الوضوء عددًا وفی الغسل مساحۃ (مجروحًا) أو بہ جدری اعتبارًا للأکثر (وبعکسہ یغسل) الصحیح، ویمسح الجریح۔ اھـ (ج۱، ص۲۵۷)-
وفی الشامیۃ: تحت (قولہ وبعکسہ) وہو مالو کان اکثر الأعضاء صحیحًا یغسل الخ لکن إذا کان یمکنہ غسل الصحیح بدون إصابۃ الجریح، واِلّا تیمم ،حلیہ۔ الخ (ج۱، ص۲۵۷)-

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 58999کی تصدیق کریں
0     1029
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات