کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ:
میت کو دفنانے کے بعد کب تک قبرستان میں ٹھہرنا مسنون ہے؟ (یعنی کتنا وقت)؟
قرآن و حدیث کی روشنی میں دلائل کے ساتھ وضاحت فرمائیں!
میت کو دفنانے کے بعد اتنی دیر قبرستان میں ٹھہرنا جتنی دیر میں ایک اونٹ کو ذبح کرکے اس کا گوشت وغیرہ تقسیم کیا جاسکے، احادیث مبارکہ سے ثابت ہے، اور یہ مستحب ہے، اسی طرح دفنانے کے بعد سورۃ البقرۃ کی اوّل اور آخر سے ایک ایک رکوع کا پڑھنا بھی جائز اور مستحب ہے۔
ففی رد المحتار:(وجلوس ساعة بعد دفنه لدعاء وقرائة بقدر ما یخر الجزور ویفرّق لحمه) لما فی سنن ابی داؤد ’’کان النبی ﷺ اذا فرغ من دفن المیت وقف علٰی قبرہ وقال: استغفروا لأخیکم واسألوا اﷲ له التثبت فإنه الاٰن یسأل‘‘ وکان إبن عمر یستحب أن یقرأ علی القبر بعد الدفن أوّل سورۃ البقرۃ وخاتمتہا۔
وروی أن عمرو بن العاص قال وہو فی سیاق الموت۔ إذا أنامت فلا تصحبنی نائحة ولا نار فإذا دفنتموانی فشبنّو علیّ التراب شنًّا ثم أقیموا حول قبری قدر ما یخر جزور ویقسم لحمہا حتی استأنس بکم وانظر ماذاراجع رسل ربی اھ(٢٣٧/٢)واﷲ اعلم!