تدفین

مرنے والے کے اہل خانہ سے تعزیت کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
59159
| تاریخ :
2000-05-08
عبادات / جنائز / تدفین

مرنے والے کے اہل خانہ سے تعزیت کرنے کا حکم

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ:
جب فوتگی ہوجائے، اور لوگ میت کے ورثاء کے پاس تعزیت کیلئے جاتے ہیں، تو یہ تعزیت کیلئے جانا شریعت میں کیا حکم رکھتا ہے؟ اور کتنے دن تک تعزیت قرآن و سنت سے ثابت ہے؟ مزید یہ کہ مندوبین کے پاس تعزیت کے وقت ہاتھ اُٹھا کر دعاء مانگنا ثابت ہے یا نہیں؟
قرآن و سنت کی روشنی میں جواب سے مستفید فرمائیں۔ شکریہ!

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

کسی مصیبت زدہ کی تعزیت کیلئے جانا جائز اور مستحب ہے، احادیث مبارکہ میں اس کے بڑے فضائل بیان کئے گئے ہیں، بشرطیکہ وہاں کسی خلافِ شرع امر کا ارتکاب لازم نہ آئے، پھر تعزیت صرف تین دن تک جائز ہے، اس کے بعد مکروہ ہے الّا یہ کہ کوئی اس وقت غائب ہو بعد میں حاضر ہوا ہو ، اس کے لئے تین دن کے بعد بھی جائز ہے، اور تعزیت میں ’’أعظم اﷲ أجرک، وأحسن عزائک، واغفر لمیتک‘‘ وغیرہ جیسے کلمات سے تعزیت کرنا بھی جائز ہے، اور اگر ہاتھ اُٹھاکر دعا کرنے کو ضروری یا واجب نہ سمجھا جاتا ہو ، فقط دعا کے آداب کے طور پر ہاتھ اُٹھالئے جائیں، تو اس کی بھی گنجائش ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی رد المحتار: وتستحب التعزية للرجال والنساء اللاتی لا یفتن، لقوله علیه الصلاۃ والسلام من عزی أخاہ بمصیبة کساہ من حُلل الکرامة یوم القیامة رواہ ابن ماجة اھ (٢٤٠/٢)
وفی العالمگیریة: ووقتہا من حین یموت إلٰی ثلاثة أیام ویکرہ بعدہا إلا أن یکون المعزی أو المعزی الیہ غائبا فلا بأس بہا اھ (١٤٧/١)
وفی عمدۃ القاری للعینی: فی قصة أبی عامر قال یا ابن أخی أقری النبی السلام وقل له استغفرلی واستخلفنی أبو عامر علی الناس فمکث یسیرا ثم مات فرجعت فدخلت علی النبی علیه السلام فی بیته علی مریر مرمل وعلیه فراش قد أثّر رمال السریر بظہرہ وجنبیه فأخبرته بخبرنا وخبر أبی عامر وقال قل له استغفرلی فدعا بماء فتوضأ ثم رفع یدیه فقال اللّٰہم اغفر لعبید أبی عامر ورأیت بیاض إبطیه اھ(٢٠١/١٧) واﷲ اعلم!

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 59159کی تصدیق کریں
0     868
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات