وضو

وضوء و نماز سے متعلق متفرق مسائل

فتوی نمبر :
59205
| تاریخ :
2000-08-05
طہارت و نجاست / طہارت / وضو

وضوء و نماز سے متعلق متفرق مسائل

کیا فرماتے ہیں علماٰءِ کرام اس بارے میں کہ :
(۱) وضو میں چوتھائی سر کا مسح کرنا فرض ہے، کیا پیشانی پر دو انگلیاں رکھ کر مسح ہوسکتا ہے یا نہیں؟
(۲) نماز کے دوران رکوع کرنے کے بعد پیچھے والے دامن کو دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر سجدے میں جانے سے نماز ہوسکتی ہے یا نہیں؟ یہ عملِ کثیر میں شمار ہوتا ہے کہ یا نہیں؟
(۳) کیا نماز کے دوران پائینچے ٹخنوں سے نیچے ہوں تو نماز ہوسکتا ہے یا نہیں؟ اور ایک شخص کہے کہ میرے دل میں تکبر نہیں اگرچہ پائینچے ٹخنوں سے نیچے کیوں نہ ہوں؟
(۴) مغرب کے آذان کے بعد مسلکِ حنفیہ کے ہاں کتنی دیر رُک کر نماز ادا کی جاتی ہے؟یا فوراً آذان کے بعد نماز شروع کی جاتی ہے؟
(۵) سورۃِ فاتحہ ’’غیر المغضوب علیہم‘‘ میں الف اور لام کو چھوڑنے سے نماز ہوجاتی ہے کہ نہیں جیسے ’’غیر مغضوب علیہم‘‘؟
(۶) مسلکِ حنفیہ کے ہاں ہاتھ ناف کے نیچے رکھتے ہیں؟ اور ایک شخص نہ ناف کے نیچے رکھے اور نہ سینے پر رکھے بلکہ درمیان میں رکھے تو اس کی وضاحت کیجیے؟ اور بالوں پر کالک لگانے کی بھی تشریح کیجئے؟
(۷) امامِ مسجد عوام کو خوش رکھنے کے غرض سے ’’والضالین میں ولفضالین‘‘ پڑھے اور عوام کو والضالین کی تبلیغ کرے ، اس کی وضاحت کیجئے؟
(۸) اور اکثر باتوں میں امامِ مسجد ، اپنی بات کو صحیح ثابت کرنے کیلئے جھوٹ کا سہارا لیتے ہیں اور جھوٹ بولتے ہوئے سننے والا پہچان لیتا ہے کہ یہ جھوٹ بول رہا ہے مگر امام کے احترام کی وجہ سے خاموش ہوجاتے ہیں تو اس پر عوام کو کیسے راہِ راست پر لائے گا؟ جبکہ امام داڑھی بھی کترواتا ہے۔
نوٹ: اگر یہ باتیں ایک امام کے اندر موجود ہوں تو کیا وہ امامت کے لائق ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

(۱) نہیں بلکہ پورے ہاتھ سے مسح کرنا ضروری ہے۔
(۲) نماز تو ہوجائے گی مگر یہ عمل مکروہ ہے جس سے احتراز کرنا ضروری ہے۔
(۳) مردوں کے لئے پائینچے ٹخنوں سے نیچے لٹکانا ناجائز اور حرام ہے اور اس سے کوئی بھی مستثنیٰ نہیں ہے لہٰذا شخصِ مذکور کو چاہیئے کہ اپنے اس عمل سے مکمل احتراز کرے۔
(۴) مغرب کی آذان اگر تیقنِ غروب کے بعد ہوئی ہو تو اس کے بعد تاخیر کرنا مناسب نہیں، فوراً نماز پڑھنی چاہیئے، اور یہی مستحب ہے بلا عذر اتنی تاخیر کرنا کہ اس میں دو رکعت نماز پڑھی جاسکتی ہو یا ستارے نظر آنے لگے، مکرہ ہے البتہ اگر اگر عذر ہو تو پھر مکروہ نہیں۔
(۵) قصداً اس طرح پڑھنا بہرحال درست نہیں، اس سے احتراز لازم ہے اور اگر کسی نے سہواً ایسا پڑھ لیا ہو تو اس سے نماز میں کچھ فرق نہیں پڑتا، نماز ادا ہوجائے گی۔
(۶) ایک مقلد حنفی شخص کو چاہیئے کہ ہاتھ ناف کے نیچے باندھے، اگر یہ شخص محض بے پرواہی سے ایسا کرتا ہے تو آئندہ کیلئے اس سے احتراز لازم ہے۔
خضاب لگانے کے بارے میں تفصیل یہ ہے کہ خالص سیاہ خضاب لگانا جمہورائمہ و مشائخ رحمہم اللہ کے نزدیک مکروہ ہے اور امام ابویوسفؒ اور دوسرے بعض مشائخ بیوی کی خوشدلی کے لئے اس کو جائز کہتے ہیں، تاہم احتیاط اور فتویٰ اس بات پر ہے کہ غازی کے سوا دوسرے لوگوں کو سیاہ خضاب لگانا مکروہِ تحریمی ہے، جس سے احتراز کرنا ضروری ہے اور خالص سیاہ خضاب اور خالص سیاہ مہندی کے علاوہ دوسرے کسی بھی رنگ کا خضاب یا مہندی لگانا بلاشبہ جائز بلکہ مستحب ہے۔
(۷) اگر امامِ موصوف واقعۃً اس طرح کرتے ہیں تو یہ قطعاً درست نہیں، انہیں چاہیئے کہ اپنے اس رویہ سے مکمل اجتناب کریں۔
(۸) امامِ موصوف اگر واقعۃً جھوٹ بولتے ہوں یا ایک مشت سے داڑھی چھوٹی کرواتے ہوں تو اس صورت میں یہ فاسق ہے اور فاسق کے پیچھے نماز مکروہِ تحریمی ہے جس کا حکم یہ ہے کہ ایسے شخص کو اپنے اختیار سے امام نہیں بنانا چاہیئے، تاہم جب تک نیک و صالح اور متبعِ شریعت شخص کا اہتمام نہ ہوسکے، تو اکیلے نماز پڑھنے سے بہتر ہے کہ اسی امام کے پیچھے نماز پڑھ لی جائے۔

مأخَذُ الفَتوی

وفی الدر: لو مد اصبعا او اصبعین لم یجز۔(ج۱، ص۹۹)۔
وفی الھندیۃ : یکرہ للمصلی أن یعبث بثوبہ أو لحیتہ أو جسدہ و ان یکف ثوبہ بان یرفع ثوبہ من بین یدیہ أو من خلفہ إذا أراد السجود۔(ج۱، ص۱۰۵)۔
وفی سننِ البیہقی: عن ابی ہریرۃؓ مرفوعًا ان اللہ عزوجل لا یقبل صلوٰۃ رجل مسبل إزارہ۔ اھـ(ج۲، ص۲۴۱)۔
وکما فی کتب الفقہ ای الدر وفتح القدیر وغیرہما ،وان شئت التفصیل فی الأردویۃ فراجع إلی الفتاوی "امداد الاحکام" علی الصفحۃ ۴۱۳ من المجلد الاول)
وفی الہندیۃ: ووضع یدہ المنٰی علی الیسرٰی تحت السرۃ۔ اھـ(ج۱، ص۷۳ و کذا فی التاتار خانیہ: ج۱، ص۵۱۱)۔
وفی الدر المختار: ویستحب للرجل خضاب شعرہ ولحیتہ ولو فی غیر حرب فی الاصح، والأصح أنہ علیہ السلام لم یفعلہ ویکرہ بالسواد۔ اھـ وفی رد المحتار:قولہ ویکرہ بالسواد ای لغیر الحرب(الی قولہ)وان لیزین نفسہ للنساء فمکروہ وعلیہ عامۃ المشائخ وبعضہم جوّزہ بلاکراہۃ روی عن ابی یوسؒف انہ قال کما یعجبنی ان تتزیّن لی لیعجبہا أن أتزین لہا۔ اھـ(ج۶، ص۴۲۲)۔
قال فی التنویر: ویکرہ امامۃ عبد وأعرابی وفاسق الخ و قال فی الشامیۃ: قال أصحابنا: لا ینبغی أن یقتدی بالفاسق إلا فی الجمعۃ لأنہ فی غیرہا یجد اماما غیرہ اھـ (ج۱، ص۵۵۹)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 59205کی تصدیق کریں
0     1020
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات