کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس بارے میں کہ میں حیدرآباد شہر میں رہتا ہوں اور میرا آبائی گھر" ڈگری" میں ہے جو کہ حیدرآباد شہر سے تقریباً 102 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے اب اگر میں نے حیدرآباد شہر میں گھر بھی لیا ہوا ہے کرائے پر، اور وہاں پر کبھی ایک ہفتہ کبھی دو ہفتے اور کبھی مہینہ بھر رہنا پڑتاہے اور یہ معلوم بھی نہیں ہوتا کہ حیدرآباد میں کتنا عرصہ رہنا پڑے گا کیونکہ کالج میں کبھی پڑھائی ہوتی ہیں یا چھٹیاں ہوجاتی ہیں تو اب یہ بتائیں کہ میں حیدرآباد میں پنج وقتہ نمازیں کس حساب سے پڑھوں اور ڈگری میں کس طرح؟ اور قصر صرف فرضوں کی ہوتی ہے یا سنتوں میں بھی؟ یعنی سنتیں پڑھنی ہیں یا نہیں؟
اور قصرنماز کتنے فاصلے پر شہر سے پڑھنی چاہیۓ؟ اور اگر میں دونوں شہروں کے درمیان سفر میں ہوں تو پھر قصر پڑھوں گا یا کس طرح؟ مثلاً میں حیدرآباد سے ڈگری آرہا ہوں اور ظہر کا وقت ہوگیا تو میں ڈگری جاکر کس طرح نماز پڑھوں گا اور اگر میں حیدرآباد سے باہر جاتا ہوں اور وہ اب تک جو میری معلومات ہے کہ وہ حد 52 کلو میٹر ہے تو اگر میں حیدرآباد سے 48 کلو میٹر پر ہوں لیکن ڈگری سے تو اس حد سے زیادہ فاصلے پر ہوں تو اب میں قصر پڑھوں گا یا نہیں؟
مہربانی فرماکر ان سوالوں کے جواب دیں بڑی مہربانی ہوگی۔ شکریہ
صورتِ مسئولہ میں جب سائل نے حیدرآباد میں اپنی رہائش کیلئے مکان کرایہ پر لیا ہوا ہے اور اس میں پندرہ دن اور اس سے زیادہ بھی ٹھہر چکا ہے اور برابر ٹھہرنے کا ارادہ بھی ہے تو حیدرآباد سائل کا وطنِ اقامت ہے اور وطنِ اقامت محض سفر کرنے سے باطل (ختم) نہیں ہوتا بلکہ اسے باطل (ختم) کرنے کیلئے ضروری ہے کہ وہاں سے سفر کرنے کے ساتھ ساتھ اپنا سامانِ وغیرہ بھی لے جائے، لہٰذا جب تک آپ حیدرآباد رہیں یا کسی دوسرے مقام پر جانے کے بعد واپس حیدرآباد آئیں اور اس آنے کے بعد آپ حیدرآباد میں اگرچہ دوچار دن ٹھہریں تب بھی اس دوران آپ پر پوری نماز پڑھنا لازم ہے۔
اسی طرح وطنِ اصلی یعنی ڈِگری میں بھی قیام کے دوران پوری نماز پڑھنا فرض ہے۔
البتہ جب آپ حیدرآباد سے ڈگری جارہے ہوں یا ڈگری سے حیدرآباد آرہے ہوں تو شہر کی آبادی اور چونگی سے نکلنے کے بعد اور دوسرے شہر کی آبادی اور چونگی کی حدود میں داخل ہونے سے پہلے پہلے جو نماز پڑھیں یا اس وقت کسی عذر کی بناء پر نماز نہ پڑھ سکیں اور بعد میں جب کبھی ان نمازوں کی قضاء کریں تو ان نمازوں میں قصر کرنا یعنی چار رکعت والی فرض نماز کی جگہ دو رکعت فرض پڑھنا آپ پر لازم ہے۔
اور آپ حیدرآباد سے یا ڈِگری سے اَڑتالیس میل انگریزی یعنی (۷۸کلومیٹر) جانے کا ارادہ کرکے نکلے ہوں اور پندہ دن سے کم کم میں واپس بھی آنے کا ارادہ ہو تو اس دوران (یعنی راستہ میں اور جہاں جانے کا ارادہ ہے وہاں پر) آپ پر قصر کرنا لازم ہے، اور اگر مسافتِ قصر سے کم مسافت پر جانا مقصود ہو یا پندرہ دن سے زیادہ ٹھہرنا مقصود ہو تو ان دونوں صورتوں میں آپ پر پوری نماز پڑھنا لازم ہے۔
وفی الدر المختار: ویبطل (وطن الاقامۃ بمثلہ و) بالوطن (الاصلی) وبانشاء (السفر) وقال الشامی تحت قولہ ( وبانشاء السفر) ای منہ وکذا من غیرہ اذا لم یمرّ فیہ علیہ قبل سیر مدۃ السفر۔ الخ(ج۱، ص۵۵۶)۔
جاۓ ملازمت و تدریس میں پندرہ یوم سےکم ٹھہرنے کی مستقل ترتیب کی صورت میں قصرو اتمام کا مسئلہ
یونیکوڈ نماز قصر 0سفرِ شرعی کی نیت سے ، گاؤں سے نکلتے وقت ، احکامِ سفر شروع ہونے کی ابتداء اور واپسی پر انتہاء کی حدود
یونیکوڈ نماز قصر 0تربیت کے لۓ فوجی دستے کا جنگل یا صحرا میں پندرہ یوم سے زائد ٹھہرنے کی صورت میں ، قصر و اتمام کے احکامات
یونیکوڈ نماز قصر 4