اگر ایک بالغ بیٹی اپنے باپ کی مرضی کی جگہ پر شادی نہ کرنا چاہے اور اس سے ہٹ کر کسی اور سے شادی کر لے (شادی میں والدہ کی رضا شامل ہو) تو کیا اس بالغہ کا والد اسکو وراثتی جائیداد جو والد کو اپنے والد سے اور اس کے والد کو اس کے والد سے ملی ہو , بے دخل کرنے کا مجاز ہے؟
نوٹ(میں ایک وکیل ہوں اور میری مؤکلہ ہیں جن کے لئے رہنمائی درکار ہے)
صورتِ مسئولہ میں مذکورلڑکی نے والد کے رشتہ کو کسی معقول وجہ سے منع کیا ہو ،تو اس میں شرعاً کوئی حرج نہیں،اور والد کو اس میں ناراض بھی نہ ہونا چاہیئے ، جبکہ مذکور لڑکی نے اپنے کفؤ میں شادی کی ہو ،تو بیٹی کا یہ نکاح شرعاً درست منعقد ہوا ہے ، اگرچہ والد کی رضامندی نہ ہو ، اب والد کو چاہیے کہ بیٹی کی خوشیوں اور اس کا گھر آباد ہونے کی دعا کرے ،لیکن اگر والد بیٹی کے اس فیصلہ سے خوش نہ ہو تو بھی اس کا بیٹی کو جائیداد سے بے دخل کرنا جائز نہیں ، بلکہ گناہ ہے ، جبکہ والد کے مذکور بیٹی کو بے دخل یا عاق کرنے سے شرعا وہ عاق نہ ہوگی ، بلکہ والد کی وفات کے بعد دیگر بہن بھائیوں کی طرح اس کو بھی ترکہ میں شرعی حصہ ملے گا -
کسی نے حصۂ میراث اپنی زندگی میں طلب نہ کیا ہو تو اس کے ورثاء کا اس کے حصے کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 2ترکہ کی تقسیم(مرحومہ کے بالواسطہ و بلا واسطہ ورثاء =1 حقیقی بیٹا 1 سوتیلا بیٹا 2 حقیقی بیٹیاں 2 دو سوتیلی بیٹیاں)
یونیکوڈ احکام وراثت 0باپ سے الگ رہنے اور گھر کے اخراجات میں شریک نہ ہونے والے بیٹے کا ترکہ میں سے مطالبہ کرنا
یونیکوڈ احکام وراثت 1