کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ آیا قرآن کریم کو بلاوضو ہاتھ میں لے کر تلاوت کرنا جائز ہے یا نہیں؟ ایک صاحب سعودیہ سے آئے ہیں ان کا کہنا ہے کہ وہاں لوگ بلاوضو قرآن کریم کی تلاوت (ہاتھ میں قرآن لے کر ) کرتے ہیں اور پھر اگر ہم وضو کی قید لگا دیں تو کتنے ہی لوگ تلاوت کی برکت سے محروم ہو جائیں گے ، کیونکہ آفس یا بس یا دیگر اوقات میں جوتے چپل لوگوں نے پہنے ہوتے ہیں اور اکثران کا وضو نہیں ہوتا اب اگر ان کو ہاتھ میں لے کر قرآن کریم پڑھنے سے روک دیا جائےتو وہ تلاوت سے بالکل محروم رہ جائیں گے ، آیا کیا اس طرح کے عذر کی وجہ سے قرآن کریم کو بلاوضو ہاتھ میں لینا جائز ہے یا نہیں؟ کیاتلاوت کے وقت چپل، جوتے اتار دینے چاہیۓ؟ اگر ایسا کرنا جائز نہیں تو وہ مسلمان کیا کریں جو وقت کی کمی کی وجہ سے تلاوت کے لۓ وقت نہیں نکال پاتے ہیں، براہِ مہربانی تسلی بخش جواب دے کر عند اللہ ماجور ہوں۔
قرآن کریم کو چھونے کے لۓ باوضو ہونا صراحۃً احادیثِ مبارکہ سےثابت ہے اور دورانِ تلاوت اس کا اہتمام ضروری ہے، اس لۓ شخصِ مذکور کا کسی خاص علاقہ کے لوگوں کے عمل کو حجت بنانا اور اپنے عقلی اٹکل پچو لڑانا دین میں مداخلت کے مترادف ہے جس سے احتراز لازم ہے، البتہ کوئی شخص اگر زبانی تلاوت کرنا چاہتا ہو چلتے پھرتے، لیٹے، بیٹھے جوتا وغیرہ پہنے ہوئے ہونے کی حالت میں ہرطرح تلاوت کر سکتا ہے۔
فی أحكام القرآن للجصاص: قوله تعالى إنه لقرآن كريم في كتاب مكنون لا يمسه إلا المطهرون روي عن سلمان أنه قال لا يمس القرآن إلا المطهرون فقرأ القرآن ولم يمس المصحف حين لم يكن على وضوء وعن أنس بن مالك في حديث إسلام عمر قال فقال لأخته أعطوني الكتاب الذي كنتم تقرءون فقالت إنك رجس وإنه لا يمسه إلا المطهرون فقم فاغتسل أو توضأ فتوضأ ثم أخذ الكتاب فقرأه اھ(5/ 300)۔
وفی تفسير القرطبي: (لا يمسه إلا المطهرون) من الأحداث والأنجاس.(إلی قوله) وقال مالك: لا يحمله غير طاهر بعلاقة ولا على وسادة. وقال أبو حنيفة: لا بأس بذلك. ولم يمنع من حمله بعلاقة أو مسه بحائل. (17/ 227)۔
وفی الفتاوى الهندية: رجل أراد أن يقرأ القرآن فينبغي أن يكون على أحسن أحواله ، يلبس صالح ثيابه ويتعمم ويستقبل القبلة؛ لأن تعظيم القرآن والفقه واجب، كذا في فتاوى قاضي خان. (5/ 316)۔
موبائل میں گانے بھرے ہوئے ہوں تو اس میں تلاوت بھروا سکتے ہیں یا نہیں؟
یونیکوڈ قرآن و حدیث کے آداب و احکام 0