کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارےمیں کہ بعض مساجد کے وضو خانوں میں لکھا ہوتا ہے کہ ’’گردن کا مسح بدعت ہے، بدعت سے خود بھی بچو اور دوسروں کو بھی بچاؤ‘‘، تو کیا واقعی گردن کا مسح بدعت ہے، جبکہ ’’تعلیم الاسلام اور بہشتی زیور‘‘ وغیرہ میں اس کا مستحب ہونا لکھا ہے ،براہِ مہربانی تسلّی بخش جواب سے ممنون فرمائیں۔
دورانِ وضو گردن کا مسح کرنا اور انگلیوں کی پشت سے کرنا احادیثِ مبارکہ سے ثابت اور مستحب ہے، اسے بدعت قراردینا احادیثِ مبارکہ سے جہالت اور فقہی روایات سے نابلد ہونے پر مبنی ہے، البتہ حلق کا مسح کرنا نامناسب اور بدعت ہے، جس سے احتراز چاہیۓ ، لہٰذا مذکور اشتہارات چھاپنے اور انہیں عام کرنے سے احتراز لازم ہے۔
فی مسند أحمد: عن طلحة، عن أبيه، عن جده، أنه " رأى رسول الله - صلى الله عليه وسلم - يمسح رأسه حتى بلغ القذال، وما يليه من مقدم العنق بمرة " قال القذال: السالفة العنق اھ(25/ 301)۔
وفی شرح معاني الآثار: عن طلحة بن مصرف، عن أبيه، عن جده قال: «رأيت النبي - صلى الله عليه وسلم - مسح مقدم رأسه حتى بلغ القذال. مؤخر الرأس من مقدم عنقه» اھ(1/ 30)۔
وفی اعلاء السنن: عن ابن عمر – رضی اللہ عنهما- أن النبی –صلی اللہ علیه وسلم – قال من توضأ ومسح بیدیه علی عنقه وقی الغل یوم القیامة اھ (۱/ ۶۶) ۔
وفي الجوهرة النيرة: ومسح الرقبة قيل سنة وهو اختيار الطحاوي ، وقيل مستحب وهو اختيار الصدر الشهيد ، ويمسحهما بماء جديد وفي النهاية يمسحهما بظاهر الكفين ومسح الحلقوم بدعة اھ(1/ 13)۔