مفتی صاحب! مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے امام صاحب وضو میں سر کا مسح کرتے وقت گیلے ہاتھوں کو پہلے منہ یعنی داڑھی پر رکھ کر پھر اس پر سر کا مسح کرتے ہیں ، اس صورت میں پہلے ہاتھ داڑھی پر لگ جائے پھر سر کا مسح کرنا جائز ہوگا یا نہیں۔
سر کے مسح کے لۓ نئے پانی کا لینا اگرچہ ضروری ہے اور کسی عضو کو مسح کرنے کے بعد اُسی تری سے سر کا مسح کرنا جائز نہیں ہے، مگر مذکور امام صاحب اگر عالم ہو تو ممکن ہے سائل کے مشاہدہ میں غلطی ہوگئی ہو ، اس لۓ ان سے پوچھ کر یا بغور دیکھنے کے بعد وجہ معلوم کر کے سوال دوبارہ بھیج دیں، ان شاء اللہ حکمِ شرعی سے آگاہ کر دیا جائےگا۔
فی التاتارخانیة: إن من نسی مسح رأسه فأخذ من ماء لحیته ومسح ربع لایجوز لأنه کما أخذ من لحیته زایل العضو فأخذ حکم الإستعمال اھ(۱/۲۱۲)۔
وفی الدر المختار: (ومسح ربع الرأس مرة) فوق الأذنين ولو بإصابة مطر أو بلل باق بعد غسل على المشهور اھ(1/ 99)۔
وفی حاشية ابن عابدين: (قوله: أو بلل باق إلخ) هذا إذا لم يأخذه من عضو آخر مقدسي، فلو أخذه من عضو آخر لم يجز مطلقا (إلی قوله) أنه إذا مسح رأسه بفضل غسل ذراعيه لم يجز إلا بماء جديد؛ لأنه قد تطهر به مرة اهـ(1/ 99)۔